خطبات محمود (جلد 9) — Page 211
211 دونوں کے لئے انہیں ایک ہی طرح کی تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اس لئے جس طرح لڑکوں کے لئے فرض ہے کہ ماں باپ سے حسن سلوک کریں۔اسی طرح لڑکیوں پر بھی فرض ہے کہ وہ ان کی مدد کریں۔پس یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہو سکتا کہ آیا لڑکیوں کے لئے ماں باپ کی امداد کرنا جائز ہے یا نہیں۔۔کسی سوال کے کئی پہلو ہوتے ہیں اور جب تک ان سب پہلوؤں پر غور نہ کیا جائے تب تک سوال اچھی طرح حل نہیں ہو سکتا۔ہم نماز کے متعلق ، روزہ کے متعلق، حج کے متعلق ، زکوۃ کے متعلق بلا استثناء کوئی حکم نہیں دے سکتے۔شریعت میں استثناء رکھے گئے ہیں اور ہمیں ان کا لحاظ رکھنا پڑے گا۔پس اگر اس جگہ یہ سوال ہو تا کہ لڑکی اپنے ماں باپ کی مدد کر سکتی ہے یا نہیں۔تو جواب یہ ہوتا ہے کہ ضروری ہے کہ وہ کرے اور جہاں تک اس سے ہو سکتا ہے۔ان کے ساتھ حسن سلوک اور مروت کرنے سے دریغ نہ کرے۔لیکن اس سوال کے بعض اور پہلو بھی ہیں اور ان کا مد نظر رکھنا ضروری ہے۔مثلاً پہلی بات جس کا مد نظر رکھنا ضروری ہے۔یہ ہے کہ انسان مال کو وقتی طور پر قربان کر سکتا ہے۔جان کو وقتی طور پر قربان کر سکتا ہے۔وقت کو وقتی طور پر قربان کر سکتا ہے۔آرام کو وقتی طور پر قربان کر سکتا ہے۔مگر ان میں سے کسی قربانی کو مسلسل جاری نہیں رکھ سکتا۔ایک انسان تو کر سکتا ہے کہ ایک وقت کے لئے کسی تکلیف کو برداشت کر لے۔لیکن یہ نہیں کر سکتا کہ کسی ایک چیز کو بھی ان میں سے ہمیشہ ہمیش کے لئے برداشت کرتا رہے۔حضرت ابو بکر ان کے اخلاص اور ایثار کا اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ایک دفعہ جب رسول کریم نے چندہ کی تحریک فرمائی اور حضرت عمر اللہ فرماتے ہیں میں نے دل میں کہا آج ابو بکر سے بڑھنے کا میرے لئے موقع ہے۔یہ خیال کر کے آپ نے اپنا نصف مال لا کر رسول کریم کے آگے رکھ دیا۔جب رسول کریم نے پوچھا کہ کتنا مال لائے ہو تو انہوں نے کہا حضور نصف مال لے آیا ہوں اور نصف گھر والوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں پھر آپ نے حضرت ابو بکر امید سے پوچھا۔انہوں نے کہا میں سب کچھ لے آیا ہوں۔اور گھر میں خدا اور رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں یہ سن کر حضرت عمرؓ نے سمجھا آج بھی میں حضرت ابوبکر کا مقابلہ نہیں کر سکا۔میرے دل میں شرمندگی پیدا ہوئی کہ میں نیت کر کے بھی نہ بڑھ سکا اور یہ بے نیت ہی بڑھ گئے۔اے یہ ایک وقتی قربانی تھی جو پورے اخلاص کے ساتھ کی گئی لیکن اگر یہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہوتی یعنی جو کچھ بھی انہیں میسر آتا وہ سارے کا سارا ہر روز رسول کریم ﷺ کے حضور لا کر رکھ الله انا