خطبات محمود (جلد 9) — Page 206
206 کی کوشش کی بے شک ان کی مخالفت کی گئی ان سے ٹھٹھے اور ہنسی بھی کی گئی اور اینٹ پتھر بھی پھینکے گئے ان کے جلسے بھی بند کئے گئے اور طرح طرح سے ان کے کام میں روکیں بھی ڈالی گئیں۔مگر اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ جو کچھ وہ کہتے تھے اس پر عمل کرنے کے لئے مسلمانوں کو حالات مجبور کر رہے تھے کیونکہ ایک طرف تو گورنمنٹ کی یہی کوشش تھی دوسرے مسلمان دیکھ رہے تھے کہ ہم انگریزی تعلیم حاصل کئے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔اور ہندو اس کی وجہ سے بہت ترقی کر رہے ہیں۔پس سرسید کی چند سال لوگوں نے مخالفت کی۔پھر وہ سمجھ گئے کہ انگریزی تعلیم سے ہم ترقی کر سکتے ہیں۔اس وجہ سے انہوں نے نہ صرف مخالفت چھوڑ دی۔بلکہ موید بن گئے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے جو کام تھا وہ یہ کام تھا کہ لوگوں کو ان کے خلاف منشاء چلائے اور اس طرف لے جائے جس طرف وہ نہیں جانا چاہتے تھے۔لوگ اس وقت یہ بدظنی کرتے ہیں کہ یہ اپنی بڑائی کے لئے کوشش کرتا ہے۔حالانکہ اگر وہ اپنی بڑائی کے لئے کرتا ہو تو لوگوں کے خیالات کے خلاف نہ کہے۔اور انہیں ادھر ہی لے جائے جدھر وہ جانا چاہتے ہوں۔مگر نبی اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتا وہ انہیں ان کی خواہشات عادات اور افعال کے خلاف چلانے کی کوشش کرتا اور اس وجہ سے لوگوں کی بد ظنیوں اور مخالفتوں کا ہدف بنتا ہے۔اور صاف ظاہر ہے کہ یہ طریق وہی انسان اختیار کر سکتا ہے۔جسے خدا تعالیٰ کی ذات پر کامل بھروسہ ہو اور جسے یہ یقین ہو کہ ساری دنیا کی مخالفت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔کیونکہ خدا میرے ساتھ ہے اور جو کچھ میں کہتا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کہتا ہوں۔چونکہ نبی اس اطمینان اور اس یقین کے ساتھ ساری دنیا کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے اس لئے اس کا دنیا میں آتا گویا خدا تعالیٰ کا آنا ہوتا ہے۔کیونکہ نبی کے ذریعہ دنیا میں خدا کا جلال ظاہر ہوتا ہے۔اس امر کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام میں اشارہ ہے کہ یا شمس و یا قمر۔دنیا میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے۔اس وقت نبی آتا ہے۔اور خدا تعالیٰ سے روشنی حاصل کر کے دنیا میں اس کے نور کو ظاہر کرتا ہے۔اس لحاظ سے وہ قمر ہوتا ہے۔اور چونکہ دنیا میں خدا تعالیٰ کو لوگ نہیں جانتے اور نبی کے ذریعہ وہ ظاہر ہوتا ہے اس لحاظ سے نبی شمس ہوتا ہے۔تو انبیاء خدا تعالیٰ کو دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے آتے ہیں اور یہی کام ان کی قائم کردہ جماعتوں کا ہوتا ہے۔اور اسی کام کے لئے ہماری جماعت کھڑی ہوئی ہے۔پس ہماری جماعت جو ایک نبی کی جماعت ہے۔اس سے میں یہ پوچھتا ہوں کہ اس نے اس کام کو کہاں تک سرانجام دیا ہے اور خدا تعالیٰ کو پوری روشنی میں دنیا والوں کو دکھانے کے لئے کس