خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 184

184 کی عمر میں دیکھا تھا۔میں بازار میں سے گزر رہا تھا کہ میں نے دیکھا دو ہندو لڑ رہے ہیں۔ایک کے ہاتھ میں ترازو ہے۔اور دوسرے کے ہاتھ میں پنیری۔ایک ایک دوکان پر کھڑا تھا اور دوسرا دوسری دکان پر۔ایک کے اب گالی دو تو تمہارا سر توڑ دوں گا دوسرا کے ہاں گالی دوں گا۔مگر گالی دے نہ۔چونکہ میرا بچپن کا زمانہ تھا مجھے شوق تھا کہ لڑائی ہوتی دیکھوں۔اس لئے دیر تک ان کی یہ باتیں سنتا رہا۔مگر وہ باتوں سے آگے نہ بڑھیں۔تھوڑی دیر کے بعد دونوں اپنی اپنی دوکانوں میں گھس گئے۔اس وقت پھر ایک نے دوسرے کو گالی دی۔جسے گالی دی گئی تھی وہ بڑے جوش کے ساتھ پنسیری اٹھائے پھر باہر آیا۔اور کہنے لگا اب گالی دو تو مزا چکھاؤں۔حالانکہ اگر وہ کچھ کر سکتا تو جب دوسرے نے اس کا پہلا چیلنج منظور کر لیا اور اسے گالی دی تھی۔وہ کچھ کر لیتا مگر پھر اس نے یہی کہنا شروع کر دیا کہ اب گالی دو تو بتاؤں اسی طرح تھوڑی دیر شور مچا کر پھر بیٹھ گئے۔اس وقت پھر اس نے گالی دی۔اور پھر دوسرا غصہ سے لال پیلا ہو کر کہنے لگا اب گالی دو تو مزا چکھاؤں۔ان کی اس قسم کی باتوں پر اس وقت مجھے اتنا غصہ آئے کہ کوئی صورت ہو تو میں خود انہیں گتھم گتھا کر دوں مجھے ان کا یہ طریق بہت برا لگتا تھا۔اس وقت بھی میں یہی چاہتا تھا کہ انہیں اگر کچھ کرنا ہے تو کریں۔فضول دھمکیاں دینے کا کیا فائدہ۔اسی طرح اب بھی مجھے مسلمانوں پر غصہ آتا ہے۔چھ سال ہو گئے ہیں یہی سنتے کہ اب کرو تو یہ ہم کر دیں گے۔کرنے والے نے پھر کیا۔مگر انہوں نے کچھ نہ کر کے دکھایا۔سوائے اس کے کہ مسلمانوں کی ان دھمکیوں سے بے عزتی اور بے حرمتی ہوئی۔وہ ذلیل اور حقیر خیال کئے گئے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔سفریورپ کے دوران میں میں نے کسی یورپین کے منہ سے کسی مسلمان لیڈر کی تعریف نہیں سنی۔مگر متعدد انگریزوں فرانسیسیوں اٹالین کو ہندو لیڈروں کی تعریف کرتے دیکھا۔اگر مسلمان بے دست و پا اور کمزور ہیں۔تو ہندوؤں کے پاس کونسی تلوار ہے لیکن ان کی تعریف کرنے والے لوگ موجود ہیں۔بات یہ ہے کہ دنیا عظمندی اور ذہانت کی تعریف کرتی ہے۔ہندوؤں نے چونکہ ایک حد تک کام کو عقل سے چلایا ہے۔اس لئے ان کی تعریف کی جاتی ہے۔مگر مسلمانوں کی ہر جگہ مذمت ہو رہی ہے۔یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ مسلمان نے اخلاق کو سٹڈی نہیں کیا۔ہر قوم اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔مگر مسلمان صرف اس امر پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم سب سے اعلیٰ ہے یہی کافی ہے۔اب سچائی دیانت امانت ان کے اندر نہیں۔ان کا کوئی فعل اور کوئی کام متانت اور سنجیدگی کو لئے ہوئے نہیں۔ان کی کسی بات سے عقل و خرد کا ثبوت نہیں ملتا اور وہ ایسی معجون مرکب بن گئے ہیں۔جسے نہ نگلا جائے