خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 152

152 وہاں اگر اس کی نگرانی نہ کی جائے اور اس کے اخلاق خراب ہو جائیں تو ایسا خطرناک ہو جاتا ہے کہ دوسرے بچوں کے اخلاق کو بھی بگاڑ دیتا ہے۔بڑے بڑے آدمی تو چونکہ عیب کو عیب سمجھنے کی قابلیت رکھتے ہیں اس لئے اس سے بچنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔لیکن بچوں میں چونکہ نقل کرنے کی عادت ہوتی ہے اس لئے وہ جو کچھ دوسرے کو کرتے دیکھتے ہیں۔وہی کرنے لگ جاتے ہیں۔ایک لڑکے کو اگر جھوٹ بولنے کی عادت ہو گی یا گالیاں دینے یا چوری کرنے کی تو جتنے لڑکوں کا اس سے تعلق ہو گا وہ سارے کے سارے ان حرکات میں اس کی نقل کریں گے اور اس طرح وہ بھی جھوٹ بولنے گالیاں دینے اور چوری کرنے کے عادی ہو جائیں گے۔تو بچپن کا زمانہ نہ صرف یہ کہ اخلاق فاضلہ کے سیکھنے کا بہت بڑا میدان ہے بلکہ دوسروں کے اخلاق بگاڑنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔میرے نزدیک بڑے بڑے لیڈر بھی اپنے لیکچروں اور تقریروں میں ایسے کامیاب نہیں ہو سکتے۔جتنا ایک بچہ دوسرے بچوں کو اپنی باتوں سے متاثر کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔میں مذہبی پیشواؤں کو اس سے متقی کرتا ہوں۔کیونکہ ان کے ساتھ ایماء ملا ءنکہ ہوتا ہے۔جو ان کی قبولیت کو پھیلاتے ہیں۔ایک بچہ جسے جھوٹ بولنے کی عادت ہے وہ سو یا دو سولڑ کے جھوٹ بولنے والے بہت آسانی کے ساتھ پیدا کر سکتا ہے۔ایک لڑکا جسے چوری کی عادت ہے وہ با آسانی سو دو سولڑ کا چوری کرنے والا پیدا کر سکتا ہے۔غرض بچپن میں جن کے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں وہ نہ صرف اپنے پ کو تباہ کر لیتے ہیں بلکہ اوروں کی بھی تباہی کا باعث بنتے ہیں اور بچپن کی عادت کا اس قدر اثر ہوتا ہے کہ بڑے ہو کر ان کی اصلاح مشکل ہو جاتی ہے۔حتی کہ بڑے بڑے فلاسفر اور سمجھدار ہو کر بھی ان کے سامنے عاجز رہ جاتے ہیں۔پس اخلاق فاضلہ کے لئے میرے نزدیک سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ اپنی آئندہ نسلوں کی اصلاح اور درستی کی پوری پوری فکر اور نگرانی کی جائے اور یہ بات کوئی معمولی نہیں بلکہ بہت بڑی بات ہے۔اس کے لئے سب سے پہلا طریق وسطی اور میانہ روی ہے۔نہ تو بچے پر اتنی سختی کی جائے کہ اسے دوسرے بچوں سے ملنے کا موقع ہی نہ دیا جائے اور نہ اتنی نرمی کی جائے کہ خواہ وہ کچھ کرتا پھرے اس کی نگرانی نہ کی جائے۔اگر اسے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلنے کودنے سے روک دیا جائے گا تو اس سے اس کے اخلاق درست نہیں ہو سکیں گے۔کیونکہ ایسی صورت میں وہ اس بات کے لئے تیار رہتا ہے کہ بدی اس کے سامنے آئے اور وہ جھٹ اسے قبول کر لے۔کیونکہ بدی کا مقابلہ ارادہ کی قوت سے ہوتا ہے اور وہ اس وقت تک نہیں پیدا ہو سکتی جب تک بچہ اچھے اور برے