خطبات محمود (جلد 9) — Page 148
148 حقیقت نہیں رکھتا۔اسی طرح اس لڑکے کی حالت تھی۔اس نے جو بات صحیح بتائی تھی وہ بھی صحیح سمجھ کر نہیں بتائی تھی۔اس پر میں نے اس کے باپ کو لکھا کہ میرے نزدیک تو اس لڑکے کو جتنے نمبر دیئے گئے ہیں ان کا بھی مستحق نہیں ہے۔اس نے لکھا لڑکے نے مجھے ایسا لکھا تھا اس لئے میں نے اس کی بات صحیح خیال کر کے شکایت لکھ دی تھی۔اب ایک ایسا لڑکا جو ماضی کی گردان ذھب۔سب اذھب کرتا ہے اور یفعل کو مضاف بتاتا ہے۔اپنی جگہ وہ بھی سمجھتا ہے کہ مجھے فیل کیوں کیا گیا۔مجھے اول درجہ کے نمبروں میں پاس کرنا چاہیے تھا۔لیکن مجھے تعجب تھا کہ اس کو سو میں سے اڑہائی نمبر بھی کیوں دیئے گئے۔تو دنیوی معاملات میں ہمیشہ دوسروں کا فیصلہ ہی زیادہ صحیح اور درست ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نے مراقبہ کرنا لکھا ہے۔مراقبہ کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے کے نقائص دیکھے اور اس طرح اصلاح کی جائے۔اس کی مثال وہ یہ دیتے ہیں کہ انسان اپنا چہرہ خود نہیں دیکھ سکتا۔اس کے چہرے کا نقص دوسرا اسے بتلا سکتا ہے۔اسی طرح اخلاق اور معاملات میں اس کے نقائص دوسرے ہی اسے صحیح طور پر بتلا سکتے ہیں۔اگر وہ اپنی رائے پر زور دے گا تو سو میں سے ننانویں دفعہ غلطی پر ہو گا۔لیکن اگر اپنی رائے کو چھوڑ دے گا اور کثرت کے فیصلہ کو قبول کرلے گا تو ننانویں دفعہ ٹھوکر سے بچے گا۔پس جب تک تم ایمان اور اخلاق کی حفاظت کے ان ذریعوں کو استعمال نہیں کرو گے۔تم کبھی صداقت اور راستی کو حاصل نہیں کر سکو گے معاملات دنیوی میں دوسروں کی رائے تسلیم کرنے سے ہی انسان صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔گو کبھی شاذ و نادر نقصان بھی ہو سکتا ہے۔اور اس کے کسی معاملہ کے کسی حصہ میں کثرت کو بھی غلطی لگ سکتی ہے۔مگر دوسری صورت کا نقصان اس سے بہت زیادہ ہے۔جس سے کہ اس کا دین ایمان بھی برباد ہو جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر اس ایک بات کو ہی اچھی طرح سمجھ لیا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے۔تو نصف سے زیادہ کمزوریاں اللہ چاہے تو دور ہو سکتی ہیں۔باقی نصف کے دور کرنے کے لئے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے میں علاج بتلا سکتا ہوں۔جو کسی دوسرے وقت بیان کروں گا۔انشاء اللہ امید ہے تمام دوست نہ صرف اپنے دین و ایمان کی حفاظت کریں گے بلکہ دوسروں کے لئے بھی ان کے دین و ایمان کی حفاظت میں محمد اور معاون ہوں گے۔خدا تعالٰی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم تمام ان ذریعوں کو استعمال میں لا سکیں جن سے اخلاق اور معاملات کی صحت اور درستی ہوتی ہو۔الفضل ۳۰ مئی ۱۹۲۵ء)