خطبات محمود (جلد 9) — Page 128
128 سے دیکھ کر اس کے علاج کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔پھر دلائل دینے کے بھی کئی طریقے ہوتے ہیں۔کیونکہ کوئی تو نرم دلائل سے مانتا ہے اور کوئی گرم دلائل سے۔کسی کو سمجھانے کے لئے عقلی دلائل کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کو نقلی دلائل کی۔کسی کے ساتھ حسن سلوک کریں تو مان جاتا ہے۔لیکن کئی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو ان پر کوئی اثر ہی نہیں ہوتا۔پھر کئی ایسے ہوتے ہیں جو ہمارے اخلاق کو دیکھ کر ہدایت پاتے ہیں۔غرض جب تک ہم تمام پہلوؤں کو مکمل نہ کریں۔اور جب تک ہر ایک شخص کے مرض کا صحیح مطالعہ کر کے اس کے مرض کا صحیح علاج نہ کریں۔تب تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمارے کئی دوست ایسے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ جن کو وفات مسیح کے مسئلہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔وفات عیسی کی دلیلیں دینا شروع کر دیتے ہیں۔حالانکہ ان دلائل کا ان پر قطعاً کوئی اثر نہیں ہوتا۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض مبلغ بھی اس بات کے سمجھنے اور موقع محل دیکھ کر اس کے مطابق تبلیغ کرنے میں ماہر نہیں ہیں۔بعض مبلغ ایسے ہیں کہ ان کے لیکچر بہت کامیاب سمجھے جاتے ہیں اور لوگ ان کے لیکچروں کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔لیکن ان کے ذریعہ بہت تھوڑے احمدی ہوتے ہیں۔ان کے مقابلہ میں بعض ایسے مبلغ ہیں جو بظاہر معمولی درجہ کے اور علم میں بھی زیادہ نہیں ہوتے۔لیکن ان کے ذریعہ سینکڑوں لوگ احمدی ہو جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اس کام کو سیکھ لیا ہے اور وہ لوگوں کی طبیعتوں کو دیکھ کر ان کے مطابق دلائل دیتے اور ان کو سمجھاتے ہیں۔لیکن دوسرے صرف لیکچر دینا جانتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جو دلائل ہم دیتے ہیں وہ لوگوں کی طبائع کے مطابق ہیں یا نہیں۔پس جب تک دوسروں کی اخلاقی تمدنی اور علمی حالت کا صحیح مطالعہ کر کے اس کے مطابق ان کی اصلاح کی طرف توجہ نہ کریں گے تب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر ہر شخص کے روحانی مرض کی صحیح تشخیص کر کے اس کے مطابق اس کی دوا اور اس کا علاج کیا جائے اور سوچ سمجھے کر اس کی طبیعت کے موافق دلائل دیے جائیں۔تو پھر دیکھو کس طرح جماعت کو ترقی ہوتی ہے۔یہاں تک کہ ہمارے دشمنوں کو بھی اقرار کرنا پڑے کہ واقعی بڑی معجز نما ترقی ہے۔ہماری ترقیات کا ایک ایک دن جو پیچھے جا رہا ہے اور جتنی دیر ہم اپنی کامیابی کو پیچھے ڈال رہے ہیں۔وہ ہمارے لئے سخت افسوسناک ہے۔