خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 116

116 سال سے تباہ اور خستہ ہو رہی ہے۔اتنا عظیم الشان تغیر پیدا کرنا سوائے خدا تعالیٰ کی نصرت کے کبھی ممکن نہیں ہو سکتا۔پس ہمارے لئے خوش ہونے کا موقع ہے اور ہم جس قدر بھی خوشی منائیں کم ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں اس سے بھی بہت زیادہ اور بڑی قربانیوں کے لئے اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے۔کیونکہ اگر ایسی قربانیاں کرنے والی جماعت کو چلا کر اس منزل کی طرف نہ لے جایا جائے۔جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔تو سمجھ لو کہ ہم نے ایک ایسا قیمتی موتی کھو دیا کہ اگر سینکڑوں سالوں کے لوگوں کی جانیں بھی جمع کی جائیں تو اس کی قیمت نہیں ہو سکتیں۔خدا تعالیٰ نے ایک مجدد کا زمانہ ہزار سالوں کے برابر بیان کیا ہے۔اور جب ایک معمولی مجدد کی جماعت ہزار سالوں کی جانوں کے برابر قیمت رکھتی ہے تو نسیح موعود جیسا عظیم الشان مجدد کہ جس کے برابر تیرہ سو سال میں کوئی شخص نہیں ہوا اور جس کو خدا تعالیٰ نے نبی بنا کر بھیجا اور جس کے سپرد اتنا بڑا کام کیا کہ گزشتہ انبیاء میں سوائے رسول کریم ان کے اور کسی کے سپرد نہیں کیا گیا۔اور اتنا بڑا کام سوائے آپ کے کسی نے نہیں کیا۔تو ایسے زمانہ کی قدر کس قدر ہو گی۔اور اس جماعت کے افراد کی جائیں اور ان کے ایمان کتنے قیمتی ہوں گے۔اگر گزشتہ بارہ سو سالوں کی جانیں بھی جمع کی جائیں تو ان کی مجموعی تعداد اس جماعت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔پس اگر ایسی جماعت کو اس کے مقصد اور مصرف سے پھرنے دیں اور اس کو اس کی اصل منزل مقصود کی طرف نہ لے جاویں تو یہ بہت بڑی کو تاہی ہوگی۔میں اپنی جماعت کے ایسے لوگوں کو جنہیں خدا تعالیٰ نے فہم و عقل اور شعور سے حصہ دیا ہے۔توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جماعت کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص طور پر توجہ کریں۔بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے۔کہ یہ خلیفہ کا کام ہے کہ جماعت کی اصلاح اور تربیت کرے۔حالانکہ وہ نہیں جانتے کہ ایک آدمی اکیلا کس طرح اتنے کام کر سکتا ہے۔اگر لوگوں کے گھروں میں پھر پھر کر لوگوں کی تربیت اور اصلاح کرنا ہی خلیفہ کا کام ہے تو ایسی خلافت خلافت نہیں بلکہ ایک عذاب ہے۔خلیفہ کا کام تو جماعت کو ہوشیار کرنا ہے۔ورنہ وہ نہ تو ہر محلہ۔ہر گاؤں اور ہر شہر میں جا سکتا ہے۔اور نہ اس طرح جماعت کی اصلاح کر سکتا ہے۔اور جب تک ہر محلہ ہر شہر اور ہر گاؤں میں ایسے لوگ پیدا نہیں ہو جاتے جو اپنے محلہ اپنے گاؤں اور اپنے شہر کے لوگوں کی تربیت کریں۔تب تک نہ تو خلیفہ کامیاب ہو سکتا ہے اور نہ اس کی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہے۔پس میں ایسے تمام لوگوں کو جو تقویٰ اور طہارت اپنے اندر رکھتے ہیں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے فرض کو سمجھیں اور