خطبات محمود (جلد 9) — Page 115
115 جب کوئی قوم گر جاتی ہے تو اس سے یہ مادہ بہت حد تک سلب ہو جاتا ہے۔مسلمانوں کو ہی دیکھ لو کہ ان کے اندر ان کے زمانہ حکومت میں یہ مادہ بہت کثرت سے پایہ جاتا تھا لیکن اب ان کی حالت مدت سے خراب ہو رہی ہے۔اور ان کے اپنے اعمال کے باعث تباہی و بربادی نے ان پر ایسے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جو اٹھتے ہی نہیں۔باوجود اس کے کہ ان میں ایسے لوگ اب بھی پائے جاتے ہیں جو ان کو اچھی باتیں بتاتے اور ان کی اصلاح کے لئے کوشش کرتے ہیں۔مثلاً ان میں بعض واعظ اور قومی لیڈر ایسے ہیں جو ان کی ترقی کے لئے اپنی طرف سے پوری اور نیک نیتی کے ساتھ کوشش کرتے اور اس کے ذرائع بتاتے ہیں اور بہت سے ان میں سے ایسے ہیں کہ واقعی ان کی نصائح نیک نیتی پر مبنی ہوتی ہیں اور واقعی ان کے دل میں قوم کی اصلاح کی تڑپ ہے۔لیکن باوجود اس کے پھر بھی ان کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور لوگوں کے دلوں میں ان کی نصائح کی ذرا بھی وقعت نہیں ہوتی۔یہی نہیں بلکہ حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ان کی نصیحتیں خود ان پر بھی کوئی اثر نہیں کرتیں۔قربانی تو وہ کرتے ہیں لیکن چونکہ وہ قربانی صحیح اور درست نہیں ہوتی اس لئے کوئی نتیجہ نہیں پیدا کرتی۔نصیحت کا مغز یہ ہوتا ہے کہ جسے نصیحت کی جائے وہ اس نصیحت سے فائدہ اٹھانے کی قابلیت اور شوق اپنے اندر رکھتا ہو۔لیکن ایسا نہیں ہوتا۔جو نصیحت لیڈر کرتے ہیں وہ اگر صحیح ہوتی ہے تو سننے والے اس پر عمل نہیں کرتے۔اور اگر غلط ہوتی ہے۔تو اس پر مخول اڑاتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک عظیم الشان تغیر دنیا میں آکر انہی لوگوں میں پیدا کر دیا ہے۔اور آپ کی قوت قدسی نے ایک ایسے رنگ میں ان پر تاثیر کی ہے کہ ان کی حالت کو ہی بدل دیا ہے۔اور وہی لوگ جو اس حد تک گر چکے تھے کہ کسی بات کا ان پر اثر نہیں ہو تا تھا۔اب وہ پیاسوں کی طرح ہدایت کے چشمے کی طرف دوڑ رہے ہیں۔اور ایک بچے کی طرح جو کسی خطرہ کے وقت اپنی ماں کی طرف دوڑتا ہے حق کی طرف دوڑتے ہیں۔یہ عظیم الشان تغیر ہے جو حضرت مسیح موعود نے اگر دنیا میں پیدا کیا۔اور اگر اور باتوں کو نہ بھی دیکھا جائے تو یہی آپ کی صداقت کا بہت بڑا ثبوت ہے۔اگرچہ بہت سے منازل ابھی ایسے ہیں جو ہماری جماعت کے لئے طے کرنے باقی ہیں۔اور بہت سے کٹھن مرحلے ابھی گزرنے ہیں۔لیکن یہ ضرور ہے کہ ہماری جماعت کے اندر اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ ان منازل کو طے کرنے کے لئے پیش آمدہ تکالیف کو جھیل سکے۔اور اس میں یہ روح ہے کہ وہ ان کٹھن مرحلوں کا مقابلہ کر سکے جن کا ملے کرنا باقی ہے۔اور جو کام ان کو دیا جائے اس کو وہ کر سکیں۔ان کے اندر ایسی روح کا پیدا ہو جانا ایک ایسا تغیر ہے کہ ایک ایسی مردہ قوم میں جو سالہا