خطبات محمود (جلد 9) — Page 109
109 اس بات سے ڈر کر کہ شائد میرے دعا کرنے کا طریق صحیح نہ ہو دعا کرنا چھوڑ نہیں دینا چاہیے۔کسی مریض کے علاج کو اس بناء پر نہیں چھوڑا جا سکتا کہ ممکن ہے اس کا علاج غلط کیا جا رہا ہو اور ایسا ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے کہ بعض دفعہ علاج غلط ہوتا ہے۔لیکن پھر بھی علاج کو چھوڑا نہیں جاتا۔پس جس طرح کہ مریض کے علاج کو چھوڑ نہیں دیا جاتا۔خواہ یہ علم ہو یا نہ ہو کہ یہ علاج صحیح ہے یا غلط۔اسی طرح دعا کو بھی ڈر کر نہیں چھوڑا جا سکتا۔کیونکہ جو شخص علاج کرتا ہے اس کے لئے تو امکان ہے کہ اس کا علاج صحیح ہو اور وہ اس علاج سے بچ جائے لیکن جو اس ڈر سے علاج ہی کو چھوڑ دیتا ہے کہ شائد یہ صحیح ہے یا نہیں وہ یقینی طور پر ہلاک ہو جاتا ہے۔۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ دعائیں کرو اور اپنے اخلاص کو بڑھاؤ۔اگر پورے یقین اور وثوق کے ساتھ دعائیں کرو گے تو ضرور تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔خدا تعالیٰ سب کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے۔خصوصاً ان لوگوں کی جو خدا کی راہ میں سخت سے سخت تکالیف اٹھا رہے ہیں۔وفا شعاری ایک ایسا جذبہ ہے جس کو سنگ دل سے سنگ دل انسان بھی بھلا نہیں سکتا۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہماری جماعت کو جو خدا کی راہ میں شدید سے شدید مصائب برداشت کر رہی ہے خدا تعالی بغیر مدد کے چھوڑ دے۔وہ اس کی دعاؤں اور التجاؤں کو دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ سنتا اور قبول کرتا ہے۔اس لئے ہماری جماعت کے لوگوں کو ضرور دعائیں کرنی چاہئیں۔پس دعائیں ہر شخص کی سنی جاتی ہیں۔لیکن وہ جو خدا کی راہ میں تکالیف اٹھاتے نہیں۔ان کی دعائیں زیادہ سنی جاتی ہیں۔اور اگر کوئی قوم اس وقت ایسی ہے جو خدا کی راہ میں دکھ تکالیف اور مصائب جھیل رہی ہے تو وہ احمدی جماعت ہی ہے۔لوگ دنیا میں دکھ اٹھاتے اور طرح طرح کے مصائب جھیلتے ہیں۔لیکن کبھی اپنی امنگوں اور آرزوؤں کے پورا کرنے کی خاطر۔کبھی اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لئے اور کبھی ان باتوں کے پورا کرنے کے لئے جو وہ دنیا میں کرنے کے لئے کرتے ہیں۔لیکن ہماری تمام تر کوشش اور ہماری تمام تکالیف اور دکھ اس لئے ہیں کہ تا دنیا کے اندر امن قائم ہو۔خدا تعالیٰ کا جلال ظاہر ہو۔اور اس کا نام بلند ہو۔ہمارے اندر بہت سی کمزوریاں بھی ہیں۔لیکن ہماری جماعت جو کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں تکالیف اٹھا رہی ہے وہ اور کوئی قوم دنیا میں نہیں اٹھا رہی۔گو وہ بتقاضائے بشری غلطیاں بھی کر بیٹھتی ہے۔لیکن پھر بھی اس کی غلطیاں دوسروں کے مقابلہ میں بہت کم ہوتی ہیں۔لیکن اس کا کام جو وہ خدا کی راہ میں کر رہی ہے۔بہت بڑا اور عظیم الشان ہے۔پس جس طرح آپ لوگوں کی دعائیں قبول ہو سکتی ہیں اور کسی کی نہیں ہو سکتیں۔