خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 97

97 قرار دی گئی ہے کہ جو آداب اور اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں۔جیسا کہ آنحضرت نے حضرت حسین کو اسی عمر میں فرمایا تھا۔اپنے آگے سے کھاؤ اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔(۳) اب کوئی کے اتنے چھوٹے بچے کو شریعت سے کیا تعلق کہ اس سے اس امر کی پابندی کرائی جائے مگر ہم کہتے ہیں اس کی پابندی کرانے میں حرج ہی کیا ہے۔کیا اگر بچہ بائیں ہاتھ کی بجائے دائیں ہاتھ سے کھائے تو اس سے اس کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ہر گز نہیں۔چونکہ یہ ایسا امر نہیں جس کی پابندی کرانے سے بچے کی صحت پر برا اثر پڑتا ہو۔بلکہ اس کے اخلاق پر اس کا اچھا اثر پڑے گا اور اس کی صحت پر بھی کوئی بوجھ نہیں ہو گا۔نہ اس کے فہم و فراست پر۔اس لئے اس عمر میں اس کی پابندی کرائی گئی۔اس سے اوپر نماز کی بلوغت کا وقت آتا ہے۔جس کی ابتدا سات سال کی عمر ہے۔اور درمیانی دس سال اور انتہائی بارہ سال۔اگر کوئی بچہ بارہ سال کی عمر میں نماز نہ پڑھے تو شریعت اجازت نہیں دیتی کہ ہم اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیں۔کہ ابھی بچہ ہے۔بلکہ نماز پڑھنے کے لئے زور دیں گے۔کیونکہ اس کا بھی جسم پر کوئی ایسا مخالف اثر نہیں پڑتا۔جس سے بچے کی صحت خراب ہو۔اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ اس کو آزاد چھوڑا جائے۔لیکن فاقہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان کی جسمانی حالت کو بگاڑتا اور اس کے عادی نظام کو تہ و بالا کر دیتا ہے۔اگر ایسے بچے جن کی ابھی نشو و نما نہیں ہوئی۔روزے رکھیں گے تو ضرور ان کی صحت پر برا اثر پڑے گا۔اس لئے بچوں سے جو لوگ روزے رکھواتے ہیں وہ ثواب کا کام نہیں کرتے۔بلکہ سخت غلطی کرتے ہیں۔کسی نے کہا ہے جو ماں سے زیادہ چاہے سے کٹنی کہلائے۔نبیوں سے بڑھ کر کون دین کے لئے غیرت دکھلا سکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میری صحت ہمیشہ کمزور رہی ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ میرے ہاں بچہ بھی دیر سے پیدا ہوا۔میری عمر اس وقت سترہ سال کی تھی۔حالانکہ بچہ اس سے بھی کم عمر میں پیدا ہو سکتا ہے۔چودہ سال کی عمر میں بچہ پیدا کرنے کی مثال خود ہمارے خاندان میں ہی موجود ہے۔حضرت مسیح موعود کی وفات پر میری انیس برس کی عمر تھی۔لیکن میری صحت کے لحاظ سے وہ زمانہ بھی میری روزہ کی بلوغت کا نہ تھا۔اور محض میری صحت کی کمزوری کی وجہ سے حضرت صاحب میرے لئے روزہ رکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔اب بھی میری صحت کی یہ حالت ہے کہ گو بارہا میں سارے روزے رکھتا ہوں لیکن بعض دفعہ اب بھی میں روزے نہیں رکھ سکتا۔پس جن بچوں کے سینے چھوٹے اور کمزور ہوں ان کو مجبور کرنا بلکہ ان کو روزہ رکھنے دینا بھی درست نہیں۔ہاں پندرہ سال کی عمر سے اس کو عادت ڈلوائی اور مشق شروع کروانی چاہیے۔خواہ ان کے قومی شہوانی بارہ برس کی عمر سے ہی بلوغت روزوں پر