خطبات محمود (جلد 9) — Page 96
96 ہے۔اور عرب کا علاقہ تو ہمارے ملک سے زیادہ گرم ہے۔وہاں تو اس عمر سے بھی پہلے بچہ پیدا کرانے کی قابلیت پیدا ہو سکتی ہے۔مگر رسول اللہ ﷺ نے پندرہ سال سے کم عمر والے کے لئے جہاد جائز نہیں رکھا۔(1) حالانکہ اس کو وہ بلوغت حاصل ہوتی ہے۔جس سے وہ اولاد پیدا کر سکتا ہے۔اب اگر جہاد کا موقع ہو گا۔تو اس کے لئے بلوغت کی حد پندرہ سال ہو گی۔اس سے کم عمر مراد نہیں ہوگی۔اب ایک اور بلوغت تیامی کی ہے۔جس سے یہ مراد ہے کہ وہ خود کب اپنا گزارا چلانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔اور کب وہ دوسروں کی مدد کے محتاج نہیں رہتے۔اولاد پیدا کرنے کی بلوغت تو بعض بارہ برس کی عمر کے بچوں کو حاصل ہو جاتی ہے۔مگر اس عمر کا لڑکا اپنا بوجھ آپ اٹھانے کے قابل نہیں ہو سکتا۔اس کی بلوغت کے یہ معنی ہوں گے کہ اس کی عمر کم از کم ۱۸ سال کی ہو۔کیونکہ اس کے دانا عاقل بالغ ہونے کے معنی یہ ہوں گے کہ اس سے کم عمر میں وہ کیا محنت کر سکتا ہے۔اس کے لئے تو پندرہ سولہ سال کی عمر کام سیکھنے اور تعلیم حاصل کرنے کی عمر ہے۔اس سے بڑھ کر جائداد کے انتظام کے لئے بلوغت کا زمانہ ہے۔اور وہ ۲۱ سال کا ہے۔اگر کسی کی عمر اکیس سال سے کم ہے تو عاقل بالغ نہیں سمجھا جائے گا۔خواہ کوئی بیس سال کی عمر میں چار بچے پیدا کر چکا ہو۔فقہاء اس کو بالغ نہیں کہیں گے۔راجاؤں کو ہی دیکھو۔ان کے اوپر ریذیڈنٹ مقرر ہوتا ہے۔سرکار کے نزدیک وہ نابالغ ہی ہوتے ہیں۔گو بچے پیدا کرنے کے لحاظ سے وہ نابالغ نہیں ہوتے۔پھر نبوت کی بلوغت کا زمانہ چالیس سال ہے۔گو پہلے بھی مل جاتی ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح کے متعلق لکھا ہے کہ ان کو تمہیں سال کی عمر میں نبوت ملی تھی۔(۲) اگرچہ ممکن ہے تاریخی طور پر یہ غلط ہو۔کیونکہ انجیلوں کے سوا کوئی اور ایسی قوی شہادت نہیں اور موجودہ اناجیل حضرت مسیح سے بہت بعد میں تیار ہوئی ہیں۔جہاں ان میں اور غلطیاں ہیں ان میں ایک یہ بھی غلطی ہو سکتی ہے۔قرآن کریم سے نبوت کی بلوغت کا زمانہ جو معلوم ہوتا ہے وہ چالیس برس ہی ہے۔اب اس جگہ کوئی عاقل بالغ کے یہ معنی نہیں کر سکتا۔جو ایک شادی کی قابلیت رکھنے والے کی نسبت کئے جاتے ہیں۔پس کام دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ کام ہیں جن کا اثر عام طور پر انسان کے جسم پر پڑتا ہے۔اور ایک وہ کام ہیں جن کا اثر انسان کے جسم پر نہیں پڑتا۔بلکہ ان کا تعلق انسان کی روحانیت کے ساتھ ہوتا ہے۔اور جتنا جتنا ان کا کم اثر جسمانیت پر اور زیادہ تر روحانیت پر پڑتا ہے اتنا ہی بلوغت کا زمانہ بھی نیچے کو چلا جاتا ہے۔حتی کہ تین سال کی عمر میں بھی ان احکام کی پابندی ضروری