خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 85

85 کیسے معلوم ہو گیا کہ واقعہ میں نماز اور روزے کا کوئی اثر نہیں۔اس کے تو محض یہ معنی ہیں کہ ان کی روحانی حس ایسی کمزور ہے کہ وہ نماز اور روزے کے اثر کو محسوس نہیں کرتے۔کیا پیرے کے یہ کہنے سے کہ مٹی کے تیل میں مجھے کوئی بو نہیں آتی مٹی کے تیل میں بو نہیں رہتی۔یا اس کی اس شہادت سے کوئی تسلیم کر سکتا ہے کہ واقعہ میں مٹی کے تیل میں کوئی بو نہیں اسی طرح کیا وہ شخص جو نہایت خطرناک بو والی گیس کی نلکی ناک سے لگا لیتا اور کہتا اس میں کوئی بو نہیں۔اس کی اس شہادت سے کوئی یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ واقعہ میں اس گیس میں کوئی بو نہیں۔اس طرح کیا وہ شخص جو سخت تیز دھوپ میں من یا ڈیڑھ من بوجھ اٹھائے ہوئے مزے کے ساتھ گاتا ہوا چلا جاتا ہے۔اس کی اس حالت سے کوئی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ دھوپ میں گرمی نہیں رہی۔یا وہ شخص جو سخت سردی اور برف میں سفر کرتا ہے اور وہ اس سردی کو کچھ محسوس نہیں کرتا۔اس کی اس حالت کو دیکھ کر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کو چونکہ سردی محسوس نہیں ہوتی اس لئے اس سردی اور برف کا کوئی اثر ہی نہیں۔ایسی حالت میں ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ جن کی حسیں باریک اور تیز ہیں کیا وہ بھی ایسی سردی یا گرمی یا بو کو محسوس کرتے ہیں یا نہیں۔اگر ایسے لوگ موجود ہوں اور بکثرت موجود ہوں تو پھر ان اشیاء کے اثر سے ہر گز انکار نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح روحانی امور میں بھی ہمیں ان لوگوں کو دیکھنا چاہیے جن کی روحانی حسیں تیز ہیں۔اور وہ روحانی امور کے اثرات کو محسوس کرنے کے اہل ہیں۔اگر ایسے لوگ بکثرت پائے جائیں جو نماز اور روزہ کے اثرات کو محسوس کریں اور وہ ان کے اثرات کی شہادت اور گواہی دیں تو پھر ان دوسرے لوگوں کو جن کی حسیں موٹی ہیں روحانی امور کے اثرات کو مانا اور تسلیم کرنا پڑے گا۔اور خواہ ان کو ان کے اثرات محسوس نہ بھی ہوں تو بھی ان کے لئے انکار کی گنجائش نہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کسی شہر میں چند شہری آپس میں ذکر کر رہے تھے کہ تل بہت گرم ہوتے ہیں۔ایک پاؤ تل کوئی نہیں کھا سکتا۔اگر کھائے تو فورا بیمار ہو جائے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی پاؤ بھر تل کھائے اور بیمار نہ ہو جائے۔اس گفتگو کے دوران ایک نے کہا اگر کوئی اتنے متل کھائے تو میں اسے پانچ روپے انعام دوں۔کوئی زمیندار وہاں سے گزر رہا تھا۔اور زمیندار بھی کوئی اکھر زمیندار تھا۔وہ نہایت تعجب اور حیرت سے ان کی یہ باتیں سنتا رہا اور خیال کر رہا تھا کہ عجیب بات ہے ایسے مزے کی چیز کھانے پر پانچ روپے انعام بھی ملتے ہیں۔اس نے آگے بڑھ کے پوچھا ٹہنیوں سمیت کھانے ہیں یا بغیر ٹہنیوں کے۔یہ اس نے اس لئے پوچھا کہ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا