خطبات محمود (جلد 9) — Page 84
84 رہا ہوتا ہے۔لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان دونوں کے لئے الگ الگ گرمی پڑ رہی ہے۔نہیں گرمی تو ایک ہی ہے ہاں دونوں کے احساسات میں بہت بڑا فرق ہے۔ایک کی حس تو اتنی کمزور ہے کہ شدید سے شدید مشقت اور محنت کی بھی اسے ایسی گرمی میں کچھ پرواہ نہیں۔اور ایک کی حس اتنی تیز ہے کہ وہ پنکھے اور برف کے پانی اور کمرے کو چھڑکاؤ وغیرہ سے سرد کر کے بھی تڑپتا اور بے چین ہوتا ہے۔یہ تو ایک جس کا ذکر ہے اور انسان میں کئی حسیں ہیں۔ایک سونگھنے کی حس ہے اس کے متعلق بھی دیکھ لو۔کس قدر فرق ہے ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی ناک کی حس اس قدر تیز ہوتی ہے کہ وہ باریک درباریک اور خفیف سے خفیف ہو اور خوشبو کو محسوس کر لیتے ہیں۔اور میں تو کہوں گا ان کی اس حس کی تیزی ہی ان کی بہت سی بیماریوں کا موجب ہو جاتی ہے۔میری یہ حس اس قدر تیز ہے کہ میں بھینس کا دودھ سونگھ کر بتا سکتا ہوں کہ اس نے کیا کیا چارہ کھایا ہے۔لیکن ایک وہ لوگ ہوتے ہیں کہ خطرناک سے خطرناک بو والی گیس کی بو سے ذرا بھی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس سے راحت محسوس کرتے ہیں۔ایک شخص نے ایک طالب علم کا مجھ سے ذکر کیا کہ کالج میں اس کو ایک ایسی گیس سے جس کی بو تمام گیسوں سے بری تھی۔ایسی مناسبت پیدا ہو گئی تھی کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ وہ گیس کی نلکی کھول کر اپنی ناک کے ساتھ لگا کر لیٹا ہوا تھا۔اسی طرح ہمارے پاس ایک ملازم تھا اسے مٹی کے تیل کی بو نہیں آتی تھی۔وہ کہتا تھا لوگ یونسی کہتے ہیں کہ اس میں بو ہوتی ہے میں تو اس کو پی بھی جاتا ہوں۔وہ بعض وقت دال میں بھی ڈال لیا کرتا تھا۔میں نے دیکھا بعض لوگ یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ کس طرح تیل پیتا ہے اسے پیسے دے کر تیل پلایا کرتے تھے۔ایک دفعہ کسی نے اس کو کہا پیرا (یہ اس کا نام تھا) اگر تو مٹی کے تیل کی بوتل پی جاوے تو میں تجھے آٹھ آنے دوں گا۔چنانچہ وہ پی گیا۔اب یہ حسوں کا ہی فرق ہے کہ ایک تو خفیف سے خفیف بو کو بھی محسوس کرتا ہے اور ایک کو مٹی کے تیل کی بو کا بھی کچھ احساس نہیں ہوتا۔ایک میرے جیسا آدمی جو دودھ سونگھ کر یہ معلوم کر لیتا ہے کہ بھینس نے کیا چارہ کھایا اور ایک دوسرا ہے جو سخت بدبودار گیس کی نلکی کھول کر اپنی ناک سے لگا کر کچھ بدبو محسوس نہیں کرتا۔بلکہ اس کو فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔جب اتنا فرق ان مادی امور میں پایا جاتا ہے تو کیسے نادان ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ روحانی امور کے اثرات چونکہ ہمیں معلوم نہیں ہوتے اس لئے ان کا کوئی فائدہ اور اثر نہیں۔وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ نماز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔یا روزے کا کوئی اثر نہیں محسوس کرتے۔تو یہ