خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 66

66 معاملہ ہوتا تو شائد وہ ایسا نہ کرتی۔پس وہ گورنمنٹ جس سے یہ قصور سرزد ہوا۔میرے خیال میں وہ بھی اتنی مجرم نہیں ہے۔جتنا کہ بظاہر اس کو سمجھا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امیر امان اللہ خان اور ان کے وزراء مجرم ہیں۔مگر اس لئے نہیں کہ انہوں نے ہمارے آدمیوں کو سنگسار کرایا۔بلکہ وہ اس واسطے مجرم ہیں کہ کسی جماعت سے ڈر کر انہوں نے ایسے فعل کا ارتکاب کیا جسے وہ اپنے خیال میں برا سمجھتے تھے۔اگر امیر اور ان کے وزراء کے ہاتھ کھلے ہوتے اور حقیقتاً کابل کی حکومت ان کے ہاتھ میں ہوتی تو ہم کو ذاتی طور پر علم ہے اور صحیح علم ہے کہ وہ ایسے افعال کو اپنی حکومت میں ہر گز پسند نہ کرتے۔چنانچہ افغانستان کے وزیر خارجہ سردار محمود طرزی صاحب جو فرانس میں سفیر ہو کر گئے تھے اور امیر امان اللہ خان کے خسر بھی ہیں۔جب فرانس سے واپس آتے ہوئے ہندوستان پہنچے تو ہمارے ناظر امور عامہ نے بمبئی میں ان سے ملاقات کی۔مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کا واقعہ سن کر انہوں نے بہت تعجب کیا۔کیونکہ ذاتی طور پر وہ مولوی نعمت اللہ خاں صاحب کو جانتے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں وہاں پہنچ کر معاملات کے درست کرنے کی کوشش کروں گا۔اور اپنا پورا زور لگاؤں گا۔لیکن وہاں جا کر ان کو معلوم ہوا کہ معاملہ ان کی طاقت سے باہر ہے کیونکہ جب خود امیر کچھ نہیں کر سکتا تو پھر وزیر کیا کر سکتا تھا۔کیونکہ وہاں پر حکومت ملاؤں کے قبضے میں ہے اور ملاؤں کے پاس اپیل کرنا ایسا ہی ہے۔جیسا کوئیں کے پاس کھڑے ہو کر کوئیں سے پانی مانگنا یا آگ سے درخواست کرنا کہ تو خود بخود بجھ جا اور جلا نہیں۔بھلا جن ملاؤں کو سالہا سال بلکہ صدیوں سے حرام خوری کی عادت ہو اور حرام خوری ہی ان کی مقتضائے طبیعت ہو چکی ہو ان کے آگے اپنی مصیبت کو پیش کرنا کیا فائدہ دے سکتا ہے۔چونکہ ان کی انسانیت مردہ ہو چکی ہے اس لئے جب کابل میں مولوی نعمت اللہ صاحب کو شہید کیا گیا تو ہندوستان کے ملانوں نے جن کی طبیعت کا مقتضاء ظلم و جفا کاری ہے بڑی خوشی منائی۔انہوں نے اور انکے زیر اثر لوگوں نے امیر کو تاریں دیں اور نہایت خوشی کا اظہار کیا۔اگر یہ ملانے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوتے تو یقیناً یہ یہود کے پاس یا کے والوں کے پاس اپنے وفد بھیجتے اور نہایت خوشی مناتے کہ انہوں نے آنحضرت انا کے قتل کرنے کی تجویز کی اور آپ کو دکھ دیئے تھے۔پھر یہی نہیں اگر یہ ملانے مکہ میں پیدا ہوتے تو یقیناً یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے لڑتے اور جنگ کرتے۔لڑنے اور جنگ کرنے کی تو میں نے ان پر بہت زیادہ حسن ظنی کی ہے۔کیونکہ یہ لوگ سب سے زیادہ بزدل ہوتے ہیں۔قلم چلانے کے ا وقت تو یہ آگے ہوتے ہیں۔لیکن کام کے وقت سب سے پیچھے ہوتے ہیں۔چنانچہ خلافت کے معاملہ میں سب سے زیادہ یہیں ملانے مسلمانوں کی تباہی کا موجب ہوئے ہیں۔خود انہوں نے نہ صرف کوئی