خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 50

50 بھی چندے کا مطالبہ کیا جائے اور ان کو اپنے ماہواری چندوں میں شریک ہونے کے لئے مجبور کیا جائے تو ان پر بڑا بوجھ ہے۔پھر بہت سی ایسی جماعتیں ہیں۔جن کے مقامی اخراجات تبلیغ ماہواری چندوں سے بہت بڑھے ہوئے ہیں۔پس یہ ناممکن ہے کہ ایک تو وہ اپنے ملک میں تبلیغ کے لئے چندے دیں اور پھر ہمارے چندوں میں بھی شریک ہوں۔خصوصاً جب کہ ہم بھی ان کے مقامی چندوں میں کوئی حصہ نہیں لیتے۔یہ بات قطعاً عقل میں نہیں آسکتی۔پھر اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں کہ جنہوں نے بیعت تو کی ہے لیکن بیعت کرنے کے بعد وہ غائب ہیں۔اور ایسے علاقوں میں چلے گئے ہیں جن کا ہمیں پتہ نہیں۔ایسے آدمی میرے نزدیک ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔چنانچہ بعض دوستوں نے مجھے بعض مقامات سے خط لکھے کہ ہمیں یہاں آنے پر معلوم ہوا ہے کہ یہاں ایک بڑی جماعت ہے جو احمدی کہلاتی ہے۔مگر وہ لوگ مرکز سے دوری کی وجہ سے ایسے بے خبر ہیں کہ ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود فوت ہو گئے ہیں۔اب ایسے احمدی جن کو حضرت میسج موعود کی وفات کا بھی پتہ نہیں ان سے چندے کون وصول کرے۔پس اس تعداد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے کسی وقت بیعت تو کر لی لیکن پھر انہوں نے مرکز اور سلسلہ کے کاموں سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔وہ اپنی ایمانی کمزوری یا کسی مجبوری کی وجہ سے ہم تک نہیں پہنچ سکتے اور ہم ان سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ان تک نہیں پہنچ سکتے۔ان کی حالت اس کھیتی کی طرح ہے جس کی نگرانی اور حفاظت کے لئے کسان اس تک نہ پہنچ سکتا ہو۔اگر اس میں کچھ نشو نما کی طاقت آئے بھی تو پھر وہیں مرجھا جائے گی۔یہی حال مرکز سے تعلق نہ رکھنے والے احمدی ہو کر غائب ہو جانے والوں کا ہے۔پھر اس تعداد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ایک، ایک دو دو کر کے دور دور رہتے ہیں اور اس طرح سینکڑوں میلوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ان سے چندہ لینے کا ذریعہ یہی ہو سکتا ہے کہ کوئی آدمی ان کے پاس بھیجا جائے اور وہ ہر گاؤں میں پھر کر ان سے چندہ وصول کرے۔لیکن اس طرح وصولی چندہ کا خرچ اصل چندے سے بھی بہت بڑھ جائے گا۔ایسے منتشر اور مرکز سے تعلق نہ رکھنے والے لوگ «الفضل" کے خریدار تو ہوتے نہیں کہ اس میں تحریک پڑھ کر شامل ہو جائیں۔اس لئے ان کے پاس آدمی بھیجنے کے سوا اور کیا ذریعہ ہو سکتا ہے۔اور اس کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے کہ اگر کسی سے دس روپے وصول ہوں گے تو ستر روپے وصولی کے لئے جانے والے کے کرایہ وغیرہ پر خرچ ہو جائیں گے۔پس ایسے لوگوں کے پاس آدمی بھی نہیں بھیجا جا سکتا کہ جو ان سے چندہ وصول کرے پھر جو حصہ منتظم جماعت کا ہے۔اس میں بھی ایسے کمزور لوگ