خطبات محمود (جلد 9) — Page 372
372 42 نماز با جماعت اور مساجد کا احترام (فرموده ۴ و سمبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں اس بات پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ میں نے جماعت کے دوستوں کو جو یہ نصیحت کی تھی کہ نماز باجماعت کی طرف زیادہ توجہ کریں۔سو اس کے مطابق انہوں نے عمل کرنا شروع کر دیا ہے اور اس نصیحت کے بعد لوگوں میں چستی نظر آتی ہے۔وہ با قاعدہ جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔پس میں اس بات پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں کہ میری نصیحت پر عمل کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔مگر اس کے ساتھ افسوس بھی ہے کیونکہ جہاں کثیر حصہ جماعت نے اس نصیحت کے مطابق یا جماعت نمازیں پڑھنی شروع کر دی ہیں۔وہاں بعض ایسے بھی ہیں جن پر نصیحت کا یا تو اثر نہیں ہوا یا اگر ہوا ہے تو بہت کم۔چنانچہ ایسے لوگ ابھی ہیں جنہوں نے اس طرف توجہ نہیں کی اور انہوں نے جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھنے کے لئے مسجدوں میں آنا شروع نہیں کیا۔وہ سمجھتے ہیں کہ نماز پڑھنے کا ہی حکم ہے۔سو نماز تو ہم پڑھتے ہیں مسجد میں اگر نہ پڑھی تو گھر میں پڑھ لی۔آخر پڑھ تو لیتے ہیں اور جب نماز پڑھ لیتے ہیں تو فرض ادا ہو گیا مگر یہ بات درست نہیں کیونکہ اسلام میں نماز پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ اقامت نماز کا حکم ہے۔یعنی با جماعت نماز پڑھنے کا ہے اور اکیلے پڑھنے کی رعائیت صرف اس لئے ہے کہ اگر کوئی شخص بعض مجبوریوں کی وجہ سے کسی وقت جماعت میں نہیں شامل ہو سکتا تو اکیلا ہی پڑھ لے تا اس کی نماز رہ نہ جائے۔پس اصل حکم نماز باجماعت کا ہے مگر باوجود اس کے بعض لوگ ہیں جو اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔قرآن کریم میں دیکھ لو۔اقیموا الصلوۃ اقیموا الصلوۃ ہی آتا ہے اور صلوا نہیں آتا اور اگر آتا ہے تو بہت کم اور وہ بھی حکم کے طور پر نہیں۔حکم کے طور تو اقیموا الصلوة اور يقيموا الصلوۃ ہی آتا