خطبات محمود (جلد 9) — Page 311
311 ہے کہ رحم کے موقع پر رحم اور عفو کے موقع پر عفو کیا جائے۔لوگ سورہ فاتحہ بار بار پڑھتے ہیں۔جس میں خدا تعالیٰ کی صفات کا خلاصہ رحم ہے۔مگر پھر بھی یاد نہیں رکھتے۔اس کے پڑھنے کی یہ غرض نہیں کہ ہر روز پڑھو اور یونہی گزر جاؤ بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ اسے ہر وقت یاد رکھو لیکن اگر بار بار پڑھنے کے باوجود اسے یاد نہیں رکھتے۔تو سمجھ نہیں آتی کہ کس طرح یاد رکھو گے اور کب یاد رکھو گے۔پس سب احمدیوں کو چاہئے کہ اسے یاد رکھیں۔اور اپنے اخلاق سنواریں اور رحم اور عفو کو ان کے موقع و محل پر استعمال کریں۔اللہ تعالی ہمیں توفیق دے۔کہ ہم اخلاق میں رحم اور عفو کو داخل کر سکیں اور پھر اس کو مناسب موقع پر استعمال بھی کر سکیں۔ہمارے غصے اور نارا منگیاں خدا کے لئے ہوں نہ کہ اپنے غضب کے ماتحت۔خدا ہم سب کو اس کی توفیق دے۔آمین۔خطبہ ثانی میں فرمایا : نماز کے بعد آج دو جنازے پڑھے جائیں گے۔احباب کو چاہئے کہ ان میں شامل ہوں۔پہلا جنازہ چیف مہدی گولڈ کوسٹ (افریقہ) کا ہے جو فوت ہو گئے ہیں۔یہ بہت مخلص احمدی تھے۔وہ ابھی احمدی نہیں ہوئے تھے کہ انہیں رڈیا میں ایک سفید آدمی کے آنے کے متعلق بتایا گیا کہ وہ آکر مہدی معہود کی خبر دے گا۔ان کے نزدیک ہم بھی سفید آدمی ہیں۔گو انگریزوں کے نزدیک ہم کالے بین مگر وہاں کے لوگوں کی رنگت کے بالمقابل ہندوستان کے باشندوں کی رنگت سفید ہی سمجھی جاتی ہے۔ان کی رڈیا کو ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر نے وہاں جا کر پورا کیا جب ماسٹر صاحب وہاں پہنچے۔تو انہوں نے خود آگر بیان کیا کہ میں نے یہ رویا دیکھی تھی جو آپ کے ذریعہ پوری ہو گئی۔اس علاقہ میں وہ سب سے پہلے اسلام میں داخل ہوئے اور پھر ہزارہا آدمی ایسے پیدا کر دیے جنہوں نے اسلام ، قبول کر لیا۔ماسٹر عبدالرحیم صاحب کے وہاں پہنچنے پر وہ خود بھی اور باقی کے سارے کے سارے اشخاص بھی احمدی ہو گئے۔ان کے دل میں تبلیغ کا بہت جوش تھا اور ہمارے مبلغوں کی انہوں نے مدد بھی بہت کی۔اب تار آئی ہے کہ وہ تھوڑی سی بیماری کے بعد فوت ہو گئے ہیں۔ایک جنازہ تو ان کا ہے جو میں پڑھوں گا۔دوسرا جنازه خیر دین صاحب کچھا ماڑی واڑہ کا ہے جو اپنے گاؤں میں فوت ہو گئے ہیں۔ان کا جنازہ غیر احمدیوں نے پڑھا ہے اور میں نے یہ اعلان کیا ہوا ہے کہ میں ان لوگوں کا جنازہ بھی پڑھا کروں گا۔جو یا تو جماعت میں دینی خدمات کی وجہ سے مشہور ہوں۔یا ان کا جو کسی ایسی جگہ فوت