خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 310

310 باقی نظر آتا تھا وہ بھی نہ رہا۔تو اصل حکم شریعت میں عفو کا ہے لیکن مناسب موقع پر۔یہ نہیں کہ ہر جگہ عفو ہی کیا جائے۔بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہاں عفو کیا جائے تو اور بھی نقصان ہوتا ہے۔اس لئے یہ حکم ہے عفو کرو تو سہی لیکن اس کا موقع اور محل دیکھ لو۔یہ نہ کرو کہ بے موقع اور بے محل کرد کہ بجائے فائدہ کے الٹا نقصان ہو اور وہ اصلاح جو مقصود ہے۔اس کے بے محل استعمال سے نہ ہو۔دراصل بعض سزاؤں میں بھی عضو ہوتا ہے۔بعض دفعہ کسی کے قصور پر سرزنش کی جاتی ہے یا سزا دی جاتی ہے تو یہ بھی عضو ہوتا ہے۔کیونکہ اس سے اس کی بھلائی مقصود ہوتی ہے اور اسے آئندہ کے لئے اس غلطی سے بچانا مد نظر ہوتا ہے۔گو بظاہر یہ عفو نظر نہیں آتا۔مگر حقیقت میں یہ عفو ہی ہے۔کیونکہ عفو کا حکم بھی تو اسی لئے ہے کہ دوسرے کے ساتھ بھلائی کی جائے اور جب بھلائی گوشمالی سے ہو۔تو پھر یہ گوشمالی ہی عضو ہوتی ہے۔جیسے بعض دفعہ بیمار کو کڑوی دوائی دینا اس پر رحم کرنا ہوتا ہے۔بیمار ہرگز نہیں چاہتا کہ کڑوی کسیلی دوائیں کھائے لیکن تیماردار اسے ایسی دوائیں کھلاتے ہیں۔کیونکہ اس میں اس کی بھلائی دیکھتے ہیں۔ایسے موقع پر یہی رحم ہے خواہ بظاہر مریض کے لئے دوائی کھانا تکلیف کا باعث ہو۔مگر حقیقت یہی ہے کہ ایسا کرنا مریض پر رحم کرنا ہوتا ہے۔ایسا ہی بعض دفعہ تھپڑ مارنا جائز ہوتا ہے لیکن اس کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اصلاح کی غرض سے ہو اور رحم کے جذبات کے ماتحت ہو۔اگر یہ رحم کے جذبات کے ماتحت ہے تو درست ہے ورنہ نہیں۔ایسا ہی دوسری سزاؤں کے متعلق ہے۔اگر وہ اصلاح کی غرض سے ہیں اور رحم کے جذبات کے ماتحت ہیں تو جائز ہیں لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر ہرگز جائز نہیں اور اگر کوئی شخص غصبیہ جذبات کے ماتحت یا انتقام کی خاطر یا کسی اور وجہ سے کہ جو نہ اصلاح پر دلالت کرتی ہے اور نہ ہی رحم کے ماتحت ہے ایسا کرتا ہے تو غلطی کرتا ہے وہ رحم نہیں کرتا بلکہ ظلم کرتا ہے وہ اصلاح نہیں بلکہ بگاڑتا ہے۔وہ عفو نہیں کرتا بلکہ انتقام لیتا ہے اور ایسا شخص خود سزا کا مستحق ہے۔پس میں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اخلاق میں رحم اور عفو کا مادہ پیدا کرے۔ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وہ سزا اگر دیں تو اس لئے دیں کہ دوسرے کی اصلاح ہو اور وہ آئندہ اس قسم کا فعل نہ کرے جو اس کے لئے اور دوسروں کے لئے نقصان دہ ہو۔نہ اس لئے سزا دیں کہ اس کو تباہ کر دیں۔ایسا ہی عفو اگر کریں تو اس لئے کہ دوسرے کی بھلائی اس میں مقصود ہو اور رحم کے جذبات کے ماتحت ہو۔لیکن اگر ایسا نہیں تو اس کے یہ معنی ہونگے کہ وہ عمدہ اخلاق نہیں رکھتے۔اخلاق یہی