خطبات محمود (جلد 9) — Page 297
297 36 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے کارنامے (فرموده ۲۳ اکتوبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے بعض پچھلے خطبات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض کام جو بتلوا علیهم اینک کے ماتحت تھے۔بیان کئے تھے۔آج میں پھر اسی حصہ آیت کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور کام بیان کرنا چاہتا ہوں۔آیات اللہ سے مراد تمام وہ چیزیں ہیں۔جو خدا تعالیٰ کی طرف اشارہ کرتی ہیں کیونکہ آیت کے معنی دلیل کے ہیں اور دلیل کے معنی وہ چیز ہے جو اور چیز کی طرف راہ نمائی کرتی اور اس کا پتہ دیتی ہو پس ہر وہ چیز جو خدا تعالی کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور اللہ تعالٰی کا پتہ دیتی ہے۔آیت کہلاتی ہے۔اسی لئے کلام الہی کو آیت کہا جاتا ہے اور اس کے ہر ٹکڑے کا نام بھی آیت ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کے تمام جملے اور فقرے آئتیں کہلاتی ہیں۔کیونکہ ہر جملہ خدا تعالیٰ کی طرف دلالت کرتا ہے اور اس کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔قرآن کریم کا کوئی حصہ اور کوئی ٹکڑا ایسا نہیں۔جو اپنی ذات میں ایسے کمال اور ایسی خوبیاں نہ رکھتا ہو جو خدا تعالیٰ کی ذات پر دلالت نہ کرتی ہوں اور کوئی حصہ نہیں جو خدا تعالیٰ کا پتہ نہ دیتا ہو۔پس قرآن کریم کے تمام ٹکڑے آئتیں کہلاتی ہیں۔اسی طرح جس قدر خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام نازل ہوتے ہیں۔وہ بھی چونکہ خدا کی طرف راہنمائی کرتے اور انسانوں کو پاک بناتے ہیں اس لئے آیات کہلاتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ خدا کے انبیاء آیت کہلاتے ہیں۔کیونکہ وہ بھی خدا کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ معجزات بھی آیات کہلاتے ہیں کیونکہ ان سے بھی خدا کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔