خطبات محمود (جلد 9) — Page 284
284 لی۔اس پر کسی نے کہا اے کاٹلی نے نہر گنگا کاٹ لی تو توحید اعمال کی درستی کے لئے ہے۔ایک طرف تو انسان کے لئے خدا تک پہنچنے کا اور ترقیات کا راستہ کھول دیتی ہے۔یہ ادنیٰ درجہ اثر کا ہے۔جو مادیات پر پڑتا ہے۔کامل اثر یہ ہے کہ انسان اعمال میں اصلاح کرتا ہے کیونکہ انسان سمجھتا ہے ایک ہی ہاتھ ہے جو یہ کام کر رہا ہے اور وہ خدا کا ہاتھ ہے۔یہ سمجھ کر انسان ایک طرف تو جسمانی اصلاح کرتا ہے اور دوسری طرف روحانی اصلاح کے لئے کوشش کرتا ہے۔اب کیا کسی موحد مولوی یا صوفی (میری صوفی سے بھی مراد مولوی ہے۔کیونکہ مولوی وہ ہوتا ہے جو پڑھ کر علم حاصل کرے۔ایسے لوگوں نے بھی جو اب صوفی کہلاتے ہیں۔مشاہدہ نہیں کیا ہوتا۔سنی سنائی یا پڑھی پڑھائی باتیں کہتے ہیں۔اس لئے وہ بھی مولوی ہیں) نے ایسے پیرا یہ میں توحید کو پیش کیا۔اگر نہیں کیا تو دیکھو قرآن موجود تھا۔اور اس میں یہ سب کچھ موجود تھا۔پھر کیوں وہ اسے پیش نہ کر سکے۔بات یہ ہے کہ وہ کرہی نہیں سکتے تھے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ دنیا کے سامنے ایسے بنیادی مسئلہ کو پیش نہیں کر سکے۔پھر محدث اور اہلحدیث موحد کہلانے والے بھی موجود ہیں۔یہ اپنے بڑوں کی کتابوں سے نکال کر تو دکھائیں۔اس درجہ کا پانا تو الگ رہا۔اگر اتنے لمبے عرصہ میں اسے یہ سمجھ بھی سکے ہوں تو بھی بات ہے۔یہ تو اسے سمجھ ہی نہیں سکے۔کہ اصل توحید کیا ہے۔فیح اعوج میں یہ نہ سمجھے اور اس زمانہ میں تو سمجھنا ذرا مشکل بھی تھا یہ تو اس زمانہ میں بھی توحید کو نہ سمجھ سکے جبکہ قرب نبوت تھا۔اور ہر طرف حال ہی حال تھا جب حال کے زمانہ میں یہ اسے نہ سمجھ سکے تو پھر قال کے زمانہ میں یہ کب سمجھ سکتے تھے۔جبکہ قال ہی قال باقی رہ گیا تھا۔اسلام پر صدیاں ایسی گزر گئیں کہ اگر ان میں یہ کوشش کرتے تو شائد سمجھ سکتے لیکن انہوں نے نہ سمجھا اور نہ سمجھنے کی کوشش کی۔اسلام کا نبوت کے قرب کا زمانہ گزرا جو حال کا زمانہ تھا لیکن اس میں نہ سمجھے اور سورج نکلے ہوئے میں یہ جب کچھ نہ دیکھ سکے تو سورج غروب ہو چکا تب یہ کیونکر دیکھ لیتے۔پھر صحابہ کا زمانہ گزرا۔اس میں بھی یہ کچھ نہ سمجھے۔تابعین کا زمانہ گزرا اس میں بھی یہ نہ سمجھ سکے۔تبع تابعین کا زمانہ گزرا۔اس میں بھی یہ نہ سمجھ سکے۔پھر سید عبد القادر جیلائی کے وقت بھی کچھ نہ سمجھے۔دسویں صدی میں حضرت احمد سرہندی تشریف لائے ان کے وقت میں بھی یہ نہ سمجھ سکے۔اس کے بعد گیارہویں صدی میں شاہ ولی اللہ صاحب تھے۔ان کے وقت میں اور