خطبات محمود (جلد 9) — Page 265
265 پرستی کرتے رہے۔مولویوں کے سامنے لوگ درختوں پر ٹونے کرتے رہے۔پتھروں پر ٹونے کرتے رہے۔گدھوں تک کی قبروں کی پرستش کی جاتی رہی لیکن وہ نہ روک سکے اور اب جب کہ حضرت مرزا صاحب نے شرک کو مٹانے والی کئی لاکھ کی جماعت کھڑی کر دی۔کہتے ہیں مرزا صاحب نے کوئی نیا کام آکے نہیں کیا اور توحید کو قائم نہیں کیا۔اس وقت جبکہ سب کچھ ہو رہا تھا انہوں نے کیا کیا۔نہ قرآن سے ہی انہیں وہ کچھ نظر آیا جو حضرت مرزا صاحب نے نکال کر ان کے آگے رکھ دیا اور نہ ہی وہ طریق معلوم ہوئے جن پر چلتے ہوئے حضرت مرزا صاحب نے شرک کی بیخ کنی کی۔مگر اب کہنا شروع کر دیا کہ یہ سب کچھ قرآن شریف میں موجود تھا۔موجود تو تھا مگر تم نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا۔کیا تم نے اس کے ذریعہ دنیا کو شرک سے روکا۔روکنا کیا تھا۔مولوی بیچارے تو آپ ہی قبروں پر چراغ جلاتے تھے اور کئی قسم کے شرکوں میں مبتلا تھے اور ان میں سے جس کسی نے اس کے بر خلاف کچھ کیا وہ بھی دھڑا بندی سے کیا نہ کہ توحید کے لئے۔اگر وہابی خدا تعالیٰ کی توحید قائم کرنے کے لئے قبروں وغیرہ کی پرستش سے روکتے تو حضرت مسیح کو ہرگز زندہ نہ مانتے۔وہ چونکہ ایسے بزرگوں کے قائم مقام تھے جو اس قسم کے کام کرتے تھے۔اس لئے ورا منا یہ کام کرتے تھے اور اپنے آباء کو دیکھ کر ایسا کرتے تھے نہ کہ فی الوقع انہیں توحید کا خیال تھا۔وہ چونکہ ان لوگوں کی اولاد تھے جنہوں نے توحید کو پھیلایا۔اس لئے ان میں یہ باتیں تھیں۔اگر مقلدوں کے ہاں پیدا ہوتے تو یہ بھی مقلد ہی ہوتے۔پس ان کا اتنے ہی پر خوش ہونا اور جب حقیقی علاج بتایا گیا۔تو اس پر بگڑنا اور ایسا علاج جتانے والے کی مخالفت کرنا بتلاتا ہے کہ وہ توحید پر عقیدة" نہیں تھے۔بلکہ رسما " تھے لیکن حضرت مرزا صاحب عقیدة" اس پر قائم تھے اور لاکھوں انسانوں کو قائم کر دیا۔حضرت مسیح موعود نے اور کام بھی کئے اور توحید کو بھی پیش کیا۔اور خدا کے بتائے ہوئے طریق کے ماتحت اس طرح پیش کیا کہ دنیا کا حال ہی بدل گیا۔لوگ شرک میں پھنسے ہوئے تھے۔ان کے ہر عقیدہ میں شرکیہ باتیں داخل ہو چکی تھیں۔مگر آپ نے عقائد کی بھی اصلاح کی اور عملی طور پر بھی لوگوں کو شرک سے بچایا کیا کوئی مولوی ایسا کر سکتا تھا۔یا کسی مولوی نے ایسا کیا۔غالبا یہ کہہ دیا جائے گا کہ مولوی بھی ایسا کر سکتے ہیں لیکن کر سکنے کا سوال نہیں کرنے کا سوال ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود کے متعلق کر لینے کا ثبوت موجود ہے۔بات یہ ہے کہ چونکہ کامل توحید انبیاء کے ذریعہ ہی آتی ہے اور عقل سے نہیں بلکہ خدا سے علم پا کر آتی ہے۔اس لئے انبیاء ہی اس کے لئے