خطبات محمود (جلد 9) — Page 248
248 کسی طرح نہیں کر سکتے کہ مقامات مقدسہ کو اس گولہ باری سے نقصان پہنچائیں اور خاص کر مسجد نبوی اور نبی کریم ا کے روضہ مبارک کی ہتک کریں اور دوسرے لوگ بھی اگر ان کے دل میں رسول کریم ان کی عزت ہوتی تو وہ یہ روش اختیار نہ کرتے۔اپنی پرانی عداوتوں کی بناء پر ﷺ ایک دوسرے کے خلاف اظہار غصہ کرنے لگ جاتے اور اصل معاملہ کی کوئی پرواہ ہی نہ کرتے۔یہ تو مانا نہیں جا سکتا کہ نجدیوں نے جان بوجھ کر روضہ مبارک مسجد نبوی اور دیگر مقامات مقدسہ پر گولے مارے ہوں گے۔کیونکہ آخر وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں اور نبی کریم ﷺ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اور آپ کی عزت و توقیر کا بھی دم بھرتے ہیں لیکن باوجود ان سب باتوں کے جو کچھ ہوا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نجدیوں نے جنگ میں صرف اسی بات کو مد نظر رکھا ہے کہ مدینہ ہم نے لینا ہے اور یہ مد نظر نہیں رکھا کہ کسی مقدس مقام کو نقصان نہ پہنچے۔انہوں نے یہی خیال کیا کہ ہاشمیوں کو یہاں سے نکال دیں لیکن یہ خیال نہ کیا کہ ہمارے بے تحاشا گولہ باری سے روضہ رسول کریم اللہ اور مسجد نبوی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور دوسرے مقامات پر بھی ضربیں لگ سکتی ہیں اس طرح گو انہوں نے دیدہ دانستہ مقامات مقدسہ کو نقصان نہ پہنچایا ہو مگر ان کی بے احتیاطی سے نقصان ضرور پہنچا۔و ہندوستان کے مسلمانوں نے مقامات مقدسہ اور خاص کر روضہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کی خبروں پر جو رویہ اختیار کیا وہ محض ان کی نفسانی اغراض اور خواہشات کا عکس ہے ان کا ایک گروہ تو وہ ہے جو پیروں کا معتقد ہے یہ تو نجدیوں کے خلاف ہیں جنہیں وہابی کہتے ہیں اور دوسرا گروہ خلافت کمیٹی والوں اور وہابیوں کا ہے جو نجدیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ایک تیسرا گروہ بھی ہے جو درمیانی ہے وہ دیو بندی ہیں جو کہلاتے تو حنفی ہیں لیکن 99 فیصد وہابی ہیں۔پچھلے دنوں جب نجدیوں اور شریفیوں میں لڑائی ہو گئی۔پیر پرستوں نے اس بناء پر کہ نجدیوں نے قبے گرا دیئے ہیں۔اس سوال کو فرقہ بندی کا سوال بنا دیا اور انہوں نے یہ سب کچھ محض اس لئے کیا کہ نجدی حملہ آور تھے۔جو پیر پرستی کے سخت دشمن ہیں اس کے مقابلہ میں دوسری طرف سے بھی فرق نہ کیا گیا جو خاندان شریف کا دشمن ہے اس نے ان سب امور کے جواب کے لئے ایک ہی کام کر دیا اور کہدیا اس قسم کی سب خبریں غلط ہیں مگر دونوں فریق کی نیت صاف نہیں۔ایک گروہ تو یہ سب کچھ وہابیوں دیوبندیوں کی مخالفت کے لئے کر رہا ہے اور دوسرا گروہ خاندان شریف کی مخالفت کے لئے۔دونوں فریق خواہ کچھ ہی دعوی کریں لیکن ان کے طریق سے یہی معلوم ہو رہا ہے کہ رسول اللہ