خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 244

244 حضرت موسی کی صداقت کسی نبی نے آکے ظاہر کی۔حضرت ابراہیم کی صداقت کسی نبی نے آکے ظاہر کی۔حضرت نوح کی صداقت کسی نبی نے آکے ظاہر کی۔حضرت آدم کی صداقت کسی نبی نے آ کے ظاہر کی اور پھر دوسرے بے شمار نبیوں کی صداقت کس نے آکے ظاہر کی جو دنیا میں آتے رہے۔پس یہ کام بھی نبوت کا کام نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کا کام ہے اور نہ ہی یہ کام خاصہ انبیاء معلوم ہوتا ہے کیونکہ جب یہ کام دوسرے لوگ بھی کر سکتے ہیں جو نبی نہیں ہیں اور فی الواقع وہ کرتے رہے ہیں تو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کام صرف نبیوں کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔پس اس صورت میں کسی خاص نبی کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کوئی ایسا کام نہیں کر رہا جو دوسرے نہیں کر سکتے اور صرف اس وجہ سے کہ چونکہ دوسرے لوگ بھی وہی کام کر سکتے ہیں جو یہ کر رہا ہے۔اس کے ماننے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ اگر ایک نبی کے متعلق ہم اس اصل کو قائم کریں گے اور اس کے ماتحت اس کا انکار کریں گے تو یہی اصل ہمیں دوسروں کے متعلق بھی قائم کرنا پڑے گا اور پھر ایک نہیں دو نہیں تمام کے تمام انبیاء کو جواب دینا پڑے گا۔لیکن یہ بات قبول نہیں کی جا سکتی ہم باوجود اس کے پہلے نبیوں کے ایسے کام دیکھتے ہیں جو غیر نبی بھی کر سکتے اور کرتے تھے انہیں نبی مانتے ہیں۔دراصل انبیاء دنیا میں مادی کام کرنے کے لئے نہیں آتے اور نہ ہی انسان کو مادی طور پر ان کے کاموں کو دیکھنا چاہیے۔ان کے سب کام روحانی ہوتے ہیں اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔حضرت ذکریا، حضرت بیجی، حضرت سلیمان اور حضرت ہارون علیہم السلام اور دوسرے انبیاء کے آنے کی غرض کوئی مادی کام کرنا نہیں تھی بلکہ روحانی کام کرنا تھی۔اور پھر وہ بھی کوئی ایسے نہیں جو دوسرے نہ کر سکتے تھے مثلاً قرآن کریم سے ایک ہی کام حضرت ہارون علیہ السلام کا نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ حضرت موسی کی غیر حاضری میں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ بت مت پوجو۔کیا یہ بات کوئی غیر نبی نہیں کہہ سکتا تھا۔پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ جو کام مرزا صاحب نے کیا وہ مولوی بھی کر سکتے ہیں۔اس لئے انہیں ماننے کی ضرورت نہیں ہم پوچھتے ہیں۔حضرت ہارون علیہ السلام نے کون سا ایسا کام کیا جو کوئی غیر نبی نہ کر سکتا تھا کہ انہیں مانتے ہو۔امامت تھی وہ غیر نبی بھی کرتے ہیں۔پھر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نیابت کی اور بچھڑا پوجنے والوں سے کہا جلد بازی سے کام نہ لو۔حضرت موسیٰ کو آ لینے دو۔نبی چھوڑ مولوی چھوڑ ایک عام آدمی بھی یہ کہہ سکتا تھا۔پس ان انبیاء کو دیکھ کر یہ معلوم