خطبات محمود (جلد 9) — Page 243
243 لائے۔پس شریعت کا سوال درمیان سے اڑ گیا اور معلوم ہو گیا کہ ہر نبی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ شریعت لائے بلکہ بغیر شریعت لانے کے بھی ایک نبی نبی ہو سکتا ہے۔کام اب رہا حکومت کا سوال۔حضرت بیچی اور زکریا علیہ السلام کے پاس حکومت بھی نہ تھی اور نہ ہی کسی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے متعلق اس قسم کے کام تھے۔بلکہ قرآن کریم سے زکریا کے یہ کام معلوم ہوتے ہیں کہ انہوں نے اولاد کے لئے دعا مانگی۔حضرت عیسی علیہ السلام کی پرورش اور ان کے متعلق مشورہ میں حصہ لیا۔نمازیں پڑھتے ، عبادت گاہوں میں رہتے تھے اور یہ کوئی ایسے نہیں تھے جو دوسرے لوگ نہ کر سکتے تھے۔دعا ہے جو ہر ایک شخص کر سکتا اور کرتا ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کی کفالت بھی کوئی ایسی چیز نہیں۔ایک وارڈ (Ward) ہے اور وارڈ کوئی ایسی شے نہیں جو نبی ہی کر سکے دوسرا نہ کر سکے۔پھر نمازیں پڑھنا اور پڑھانا۔عبادت گاہوں میں رہنا یہ بھی ایسی باتیں ہیں کہ ہر ایک شخص کرتا اور کر سکتا ہے۔پس ہمیں ان کے متعلق کوئی ایسا کام نظر نہیں آتا جسے دوسرے لوگ کر نہ سکتے ہوں اور دنیا والے بغیر اس کام کے کئے جانے کے رہ نہ سکتے ہوں۔ایسا ہی بائبل ہے۔اس سے بھی حضرت زکریا کی کوئی ایسی بات نہیں ملتی جو صرف انہی کی ذات سے پوری ہو سکتی ہو بلکہ جتنی باتوں کا پتہ چلتا ہے وہ ایسی ہیں کہ سب لوگ انہیں کر سکتے ہیں۔اسی طرح یخنی علیہ السلام کا بھی ایک ہی کام نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ حضرت عیسی آگئے اور وہ بچے ہیں۔پس یہ بھی کوئی ایسا کام نہیں کہ دنیا اس کی محتاج ہو اور دوسرے لوگ نہ کر سکتے ہوں۔یہی کام حضرت نبی کریم کے وقت حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سعید نے کیا۔حضرت یحی کے متعلق اگر سیدا" و حصوراً (آل عمران (۴۰) کہا گیا تو یہ بھی کوئی نرالی بات نہیں۔سردار شریف الطبع بھی ہوتے ہیں۔اس طرح یہ بات بھی حضرت کی سے خاص نہ رہی اور آنحضرت ﷺ کے متعلق بھی یہ بات پائی جاتی ہے بلکہ درجہ اولی آپ میں ہے اور پھر جو کام حضرت یحییٰ نے نبی ہونے کی حیثیت میں کیا وہی کام آنحضرت ﷺ کے عہد میں غیر نبی اشخاص نے کیا اور لوگوں کو کہا کہ محمد رسول اللہ ا آ گئے اور وہ بچے ہیں اور ایسے لوگوں کے پیشرو حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ال و دیگر صحابہ تھے۔رہا یہ امر کہ حضرت عیسی کی صداقت کو لوگوں پر ظاہر کیا۔تو یہ کام بھی نبیوں کا نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کی صداقت کو اس طور سے ظاہر کریں۔جس طور سے کہا جاتا ہے کہ حضرت یحی" نے کی۔کیونکہ اس طرح یہ سوال پیدا ہو گا کہ خود حضرت بیٹی کی صداقت کس نبی نے ظاہر کی۔پھر الا