خطبات محمود (جلد 9) — Page 237
237 30 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے کار ہائے نمایاں (فرموده ۲۸ اگست ۱۹۲۵ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں آج ایک ایسے مضمون کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا تھا جو اس زمانہ میں ہمارے تبلیغی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت ہی اہم اور ضروری ہے لیکن چونکہ میری طبیعت کچھ کمزور ہے اور رات سے مجھے کچھ حرارت سی معلوم ہوتی ہے اس لئے میں آج اس مضمون کے متعلق مختصر تمہید بیان کروں گا۔یہ مضمون ایسا اہم ہے کہ ایک مستقل کتاب چاہتا ہے اور ایسا باریک ہے کہ کئی رنگ میں اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اسے اچھی طرح سمجھ سکیں لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ چونکہ ہماری جماعت کے دوستوں کو اس کی فوری ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور ان کی تبلیغ کے راستے میں بعض دفعہ یہی سوال مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ چند خطبوں میں اس کے بعض حصوں کو بیان کر دیا جائے۔پھر اگر توفیق ملی تو تفصیل کے ساتھ اس پر بحث کر دی جائے گی۔بعض دوستوں کو اور خود مجھے بھی اس بات کی خواہش رہی ہے کہ اس مضمون کے متعلق ایک کتاب لکھوں لیکن اس وقت میں چند خطبوں کے ذریعے اس مضمون کے بعض حصے بیان کرتا ہوں جو اس وقت تک انشاء اللہ تعالیٰ مفید ہوں گے۔جب تک کہ مجھے یا کسی اور دوست کو اس قسم کی کتاب لکھنے کی توفیق ملے۔ہمارے بعض دوست جن میں باہر کے دوست بھی شامل ہیں بیان کرتے ہیں اور اب بھی ایک دوست نے جو باہر سے آئے تھے یہ سوال بیان کیا تھا کہ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں۔حضرت مرزا صاحب نے کیا کیا ہے کہ ہم انہیں مانیں اور ان کی جماعت میں داخل ہوں۔ایک عام آدمی کے لئے جو کہ مضامین کی گہرائیوں میں نہیں جاتا اتنا ثابت کر دینا کافی ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود خدا کے