خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 233

233 کنوؤں اور نہروں وغیرہ سے بھی پانی بہم پہنچایا جاتا ہے لیکن کنوئیں اور نہریں وہ سیرابی نہیں کر سکتے جس طرح کہ بارش کا پانی۔نہر کے پانی کی اگر فضیلت ہے تو یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار میں ہوتے ہیں۔جب چاہا لے لیا۔اور جتنا چاہا برت لیا لیکن تاہم اس کو وہ درجہ حاصل نہیں جو بارش کے پانی کو ہے اور اگر بارش کا پانی بھی اختیار میں ہو تا۔تو پھر نہروں کو کوئی پوچھتا بھی نہ۔افراد کی تبلیغ بارش سے مشابہت رکھتی ہے لیکن ہماری بارش رکی ہوئی ہے اور اس بارش کے لئے درد دل اور نیت کی ضرورت ہے اگر دلوں میں یہ درد پیدا ہو جائے کہ دنیا پیاسی ہے اور اسے سیراب کرنا ہے اگر یہ نیت پختہ ہو جائے کہ دنیا کے ریلے میدانوں میں دریا بہا دینے ہیں اور افراد جماعت پانی بن جائیں اور پانی بھی وہ پانی جو آسمان سے برستا ہے۔تو پھر چند ہی دنوں میں دیکھ لو گے کہ کس طرح جل تھل ہو جاتا ہے اور کس طرح سبزہ ہی سبزہ پیدا ہو جاتا ہے لیکن یہ اس طرح نہیں ہو گا کہ لوگ خود تو بیٹھے رہیں اور دوسروں کا منہ دیکھا کریں بلکہ اس کے لئے ضرورت ہے کہ وہ بارش کی طرح گرنا شروع ہو جائیں اور دنیا کا کوئی گوشہ نہ چھوڑیں جو ان کی سیرابی سے باہر رہ جائے۔بعض جگہ لوگوں نے کوشش کی ہیں اور نتائج بھی اچھے نکلے ہیں۔بعض جگہ ایک آدمی کام کرنے والا پیدا ہوا اور اس کی کوشش سے وہاں جماعت پیدا ہو گئی اور سینکڑوں ہزاروں آدمی سلسلے میں داخل ہو گئے۔لیکن یہ ایسی باتیں نہیں جو دنیا کی پیاس بجھانے والی ہوں۔دنیا کی پیاس تو اسی سے بجھ سکتی ہے کہ افراد جماعت بارش کے قطروں کی طرح اس کو گھیر لیں اور اس کے گوشہ گوشہ کو سیراب کر دیں۔پس جو لوگ اس فرض کو نہیں پہچانتے۔وہ غفلت کر رہے ہیں اور ایسے لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان میں سے ہر شخص جو کوتاہی کر رہا ہے وہ بادل کو پھاڑتا ہے اور یہ یاد رکھو کہ بادل جب پھٹا تو بارش نہیں ہوتی کیونکہ بادل کا پھٹنا اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ اب بارش نہیں ہوگی۔اسی طرح جس جماعت کے بعض افراد تو کام میں مشغول ہوں اور بعض سستی کر رہے ہوں۔وہ جماعت کامیاب نہیں ہو سکتی اور نہ ہی دوسروں کے لئے فائدہ رساں بن سکتی ہے۔پس ہماری جماعت کے افراد کو چاہئے کہ وہ سستی کرنے والے نہ بنیں بلکہ کام کرنے والے بنیں۔کیونکہ کام کرنے والے انسان زمین کے سیراب کرنے والے بارش کے بادل ہوتے ہیں جو گھٹا ٹوپ اٹھتے ہیں اور تمام دنیا پر چھا جاتے ہیں اور یہی ہوتے ہیں کہ جن سے کھیتیاں اگتی ہیں۔یہی ہوتے ہیں کہ جن سے سبزہ پیدا ہوتا ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ ایسے بادل بننے کی کوشش کریں۔اگر وہ ایسا 16