خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 216

1 216 بد نیتی نہیں ہوتی اور اس صورت میں لڑکی ماں باپ کو کوستی بھی نہیں۔کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ میرے ماں باپ نے تو دیکھ بھال کر میرا بیاہ کیا تھا۔آگے میری قسمت کہ مجھے اچھا بر نہ ملا۔اس پر وہ مبر اور شکر کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کرتی ہے۔غرض مہر چونکہ عورت کی ساری عمر کے اخراجات کے لئے ہوتا ہے اور ان ضرورتوں کے لئے ہوتا ہے جو اسے آئندہ زندگی میں پیش آتی ہیں اس لئے اس کا نکاح کے موقع پر اسے اس لئے دے دینا کہ وہ اپنے ماں باپ کو دے دے یا کسی اور ایسے مصرف میں لے آئے جو اتنا ضروری نہیں درست نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اسے اس وقت اتنا بھی معلوم نہیں ہوتا کہ مال کی حقیقت کیا ہے اور اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ بیاہتا زندگی کی کیا ضرورتیں ہیں۔وہ اس وقت سمجھتی ہے خاوند کے گھر جا کر جو چاہونگی لے لوں گی۔لیکن اسے نہیں معلوم کہ جو کچھ وہ اس وقت سمجھ رہی ہے وہ نہیں بلکہ اس کے پاس کچھ اپنا مال ہونا بھی ضروری ہے۔جسے وہ اپنے طور پر خرچ کر سکے۔درست جیسے مثلاً ماں باپ کی مدد ہے یا بھائیوں کی مدد ہے یا اور رشتہ داروں کی مدد ہے۔ان باتوں کے ماسوا مہر کا روپیہ اس کے اپنے اور اس کے بال بچوں کے بھی کام آسکتا ہے خاوند کی زندگی میں بھی وہ اسے خرچ کر سکتی ہے۔لیکن خاوند جب مرجائے تو پھر وہ اس سے اپنا گزارہ کر سکتی ہے اور یہی روپیہ اس کی اور اس کے بچوں کی پرورش کا باعث ہو سکتا ہے۔لیکن ان حالات سے وہ ابتدا میں ناواقف ہوتی ہے اور اگر ایسے وقت میں اس کے والدین اس کے مہر کا روپیہ لے لیں۔تو وہ موقع پڑنے پر بالکل تہی دست ہوگی اور مشکلات میں پڑ جائے گی۔پس یہ جائز نہیں کہ مہر پہلے ہی ماں باپ لے لیں۔ہاں عورت انہیں قابل امداد سمجھ کر اس میں سے اس وقت دے سکتی ہے جب وہ شادی کے بعد اپنی ضرورتوں اور حاجتوں سے واقف ہو جائے۔یوں تو عورت اپنے خاوند کو بھی مہر کا روپیہ دے سکتی ہے۔لیکن یہ نہیں کہ خاوند مرادا کئے بغیر ہی لینے کا اقرار کرالے۔اس طرح عورت سمجھتی ہے مہر پہلے کونسا مجھے ملا ہوا ہے۔صرف زبانی بات ہے اس کا معاف نہ کرنا کچھ فائدہ نہیں دے سکتا اس لئے کہہ دیتی ہے میں نے معاف کیا ورنہ اگر اسے دے دیا جائے اور وہ اس کے مصارف جانتی ہو تو پھر معاف کرالینا اتنا آسان نہ ہو۔حضرت عمر اللہ اور دیگر آئمہ کبار اور بزرگوں کا فیصلہ تو یہ ہے کہ کم از کم سال کے بعد عورت اپنا مہر اپنے خاوند کو دے سکتی ہے۔یعنی مهر وصول کرنے کے بعد ایک سال تک وہ اسے اپنے پاس رکھے اور پھر اگر چاہے تو خاوند کو دے رضى