خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 212

212 دیتے تو یہ ابو بکر جیسے انسان کے لئے بھی ناممکن اور ناقابل برداشت ہوتی اور وہ اپنے نفس کے حقوق اپنے بیوی بچوں کے حقوق ، ہمسائیوں کے حقوق قرابتیوں کے حقوق ادا نہ کر سکتے جن کا ادا کرنا بھی انسان پر فرض ہے۔پس ہمیشہ ہمیش کے لئے ایسا نہیں ہو سکتا البتہ وقفہ وقفہ کے بعد ہو سکتا ہے۔اور ہمیشہ کے لئے ایسا کرنا شرعاً بھی ناجائز تھا کیونکہ مال پر ان کی اپنی زندگی کا بھی مدار تھا۔ان کی بیوی بچوں کی زندگی کا بھی مدار تھا۔انہوں نے کھانا کھانا تھا۔کپڑے پہنے تھے۔مکان کا انتظام کرنا تھا۔رہائش کا بندوبست کرنا تھا اور دوسری ضروریات پوری کرنی تھیں۔پس اگر وہ ہمیشہ کے لئے ہی اس طریق کو اختیار کر لیتے کہ ہر روز سب کچھ رسول کریم اینا ان کو لا کر دے دیتے تو یہ نجھ نہ سکتا اور ان کے لئے ایسی مشکلات پیدا ہو جاتیں جو ناقابل برداشت ہو تیں۔اسی طرح ایک انسان یہ تو برداشت کر لے گا کہ مال تو مال جان تک بھی ایک دوست کی خاطر دے دے۔مثلا " وہ اگر یہ دیکھے کہ اس کا دوست ڈوب رہا ہے تو اس کو بچانے کے لئے خواہ وہ تیرنا نہ بھی جانتا ہو۔کود پڑے گا اور یہ بھی وہ خیال نہیں کرے گا کہ مجھے تیرنا نہیں آتا کیونکہ ایک دوست کی خاطر جان دے دینا وہ گوارا کر لے گا۔لیکن یہ نہیں گوارا کر سکے گا کہ سسک سسک کر جان دے اور متواتر صدمات سہنے کے لئے اپنی جان پیش کر دے۔پس یہ تو برداشت ہو سکتا ہے کہ اپنی زندگی کو ایسی تکلیف میں ڈال دے جو وقتی ہو لیکن ہمیشہ کے لئے کوئی تلخی میں پڑنا گوارا نہیں کر سکتا۔ایک دوست ایک دوست کی خاطر ایک گھنٹہ میں تو جان تک دے دیگا لیکن ساری عمر کے لئے اپنی زندگی اس کی خاطر ایسی بنالے کہ ہر وقت اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالے رکھے یہ نا ممکن ہے۔مثلاً ایک شخص کی کسی سے محبت ہو اور وہ اس سے جان طلب کرے تو وہ دے دیگا لیکن اگر وہ یہ کرے کہ ایک نشتر کے ساتھ اس کے جسم کو چھیلنا شروع کر دے یا اس کے بدن سے تھوڑا تھوڑا گوشت کاٹنا شروع کر دے تو اس کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں پائے گا۔اسی طرح ایک شخص اپنے کسی دوست یا عزیز کے واسطے کوٹھے سے گر کر جان دے دینا پسند کرے گا کوئیں میں کود کر جان دے دینا گوارا کر سکے گا۔آگ میں جل کر جان دینے کے لئے تیار ہو جائے گا لیکن سوئیوں سے چھیدا جا کر جان دینا اس کی برداشت سے باہر ہو گا اور اس کے لئے اپنے آپ کو وہ ہر گز تیار نہ پائے گا۔کیونکہ وقتی طور پر جان دینا ممکن ہے لیکن زندہ ہمیشہ کے لئے تکلیف میں پڑے رہنا بہت مشکل بلکہ بعض حالتوں میں ناممکن العمل بات ہے۔اب دیکھو مہر کیا چیز ہے۔مہر عورت کی آئندہ زندگی کے ایسے اخراجات کے پورا کرنے کے