خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 16

16 آدمی مارا گیا ہے تو بے شک اس کو قتل نہ کیا جائے۔اسی طرح ان کے علاوہ بعض اور حالات ایسے ہوتے ہیں کہ جہاں جذبات کا اظہار سخت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔جیسا کہ جنگی موقعوں پر اگر مُردوں کو نہلایا کفنایا جائے تو بہت بڑے خطرے ہیں۔یکدم بیسیوں آدمی مر جاتے ہیں۔اگر لوگ ان کے کفن اور نہلانے وغیرہ میں لگ جائیں تو بیسیوں زخمی جو خبر گیری سے بچ سکتے ہیں یا ان کی تکلیف کم ہو سکتی ہے وہ بھی سخت تکلیف کے ساتھ جان دیدیں اور پھر خطرہ ہے کہ دشمن یہ مصروفیت دیکھ کر حملہ کر دے تو جان اور ملک دونوں کا نتسان ہو۔چونکہ اس وقت جذبات کا اظہار مُردوں کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا بلکہ بر خلاف اس کے زندوں کا اس میں سخت نقصان ہے۔اس لئے ایسے موقع پر جذبات کو دبانا ہی ضروری ہے۔گو انسانی جذبات یہ چاہتے ہیں کہ مرنے والوں کا اعزاز اور اکرام ہو اور عمدگی کے ساتھ نہلا دھلا کر اور کفن دیگر دفنایا جائے۔مگر عقل کہتی ہے کہ اس میں مردوں کا تو کئی فائدہ نہیں مگر ملک کا اور زندوں کا سخت نقصان ہے۔اس لئے شریعت کا یہ حکم ہے کہ وہ جس حالت میں ہیں ان کو دفن کر دو۔الگ الگ قبر بنانے کی بھی ضرورت نہیں۔بظاہر یہ بات طبیعت پر بہت گراں گزرتی ہے۔لیکن اگر انسان سوچے تو حقیقت کچھ نہیں۔کیونکہ مردے کو نہلانا یا کفن پہنانا ایک عارضی صفائی ہوتی ہے۔چند دنوں کے بعد سب کچھ مٹی ہو جاتا ہے۔قبر درمیان میں ایک پردہ ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے مردہ کی بعد کی حالت نظر سے مخفی رہتی ہے۔یہ صرف جذبات ہیں جو ان امور کی طرف انسان کو جھکا دیتے ہیں۔چونکہ انسان ایک شخص کو دیکھتا ہے کہ وہ عمدہ لباس پہنتا ہے اور روزانہ صفائی رکھتا ہے۔گرمیوں میں سرد اور سردیوں میں گرم کپڑے پہنتا ہے۔اور وہ اس کی ہر طرح عزت و احترام کرتا ہے۔اس کے مرنے پر اس کے جذبات یکدم ان حالات کے خلاف نظارے کو برداشت نہیں کر سکتے س لئے عام حالات کے ماتحت شریعت نے انسان کے جذبات کو ٹھکرایا بھی نہیں تاکہ طبیعت قساوت ہی نہ اختیار کرلے۔بلکہ مردے کی صفائی کفن دفن اور احترام کا حکم دیا ہے۔اس خیال سے کہ جو بعد میں ہونے والا ہے وہ تو تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہے۔کیونکہ مختلف موسموں اور وقتوں کے لحاظ سے مردے میں کیڑے پڑ جاتے ہیں اور زمین کا شور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔مگر اس کا اثر جذبات پر نہیں ہو تا۔انسان صرف قبر ہی دیکھتا ہے اور وہی کیفیت اور وہی نظارہ اس کی آنکھوں کے سامنے رہتا ہے جو دفنانے کے وقت اس کے سامنے تھا۔پس جس وقت جذبات کے اظہار سے حقیقی نقصان پہنچتا ہو تو اس وقت جذبات کا اظہار ہر گز نہ کرنا چاہیے۔