خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 15

15 چیز قرار دیا اور ان کی زندگی جانوروں اور درندوں کی طرح ہو گئی۔اس کے مقابلہ میں آنحضرت ا کو دیکھو۔وہاں عقل بھی ہے خوشی بھی ہے اور رنج بھی۔سب باتیں ایک جگہ جمع ہیں۔کیونکہ آنحضرت ﷺ نے عقل اور جذبات۔خوشی اور غمی کو ان کا طبعی مقام دیا ہوا تھا جس کی وجہ سے کوئی قباحت نہیں پیدا ہوتی تھی۔پس جس جگہ جذبات محبت، آشتی اور ہمدردی کے بڑھانے کا موجب ہوں وہاں جذبات کو کام میں لاؤ اور جہاں عقل سے محبت اور تعلقات بڑھتے ہوں وہاں عقل کو کام میں لاؤ۔مثلاً ایک شخص جو کسی دوسرے کو مار رہا ہے تم اس کو اپنے جذبات کے ماتحت مارنے کی بجائے اس کو صبر کی تلقین کرو اور اس کے ہاتھ کو روک دو کیونکہ ہو سکتا ہے مارنے والا ہی حق پر ہو۔ان دونوں کی محبت میں تو فرق پڑہی چکا تھا۔اگر اس وقت تم جذبات کے ماتحت اس کو مارو تو تمہارے ساتھ بھی اس کے تعلقات میں فرق پڑ جائے گا۔لیکن جذبات کو دبا کر عقل سے کام لینے اور مارنے والے کو صبر کی تلقین کرنے اور اس کے ہاتھ کو روکنے سے یہ نقص نہیں پیدا ہوتا۔بلکہ اس وقت عقل سے کام لینے سے تعلقات کے بڑھنے کی زیادہ امید ہے۔اور جس جگہ جذبات سے کام لینے میں نقصان ہو اور عقل سے کام لینے میں فائدہ ہو وہاں جذبات کو فوراً دیا دو اور ان کی قطعاً پرواہ مت کرو۔شریعت میں سزائیں رکھی ہیں کہ چور کا ہاتھ کاٹا جائے اور قاتل کو قتل کیا جائے۔اب جذبات کہتے ہیں کہ اس بیچارے کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔اور مقتول تو مر گیا وہ تو زندہ نہیں ہو سکتا۔اب اس قاتل کے مارنے میں کیا فائدہ ان کو سزائیں دینے کے وقت دل میں رحم پیدا ہوتا ہے اور جذبات اپنا اثر ڈالتے ہیں لیکن عقل کہتی ہے کہ چور کو سزا نہ دی جائے تو لوگوں کے مال اور اس کی وجہ سے جانیں بھی خطرہ میں پڑ جائیں گی وہ چور بھی اس عادت میں زیادہ ترقی کرے گا اور اس کے اس بد نمونہ کے اور بھی بہت سے لوگ اس عادت کے پیدا ہو جائیں گے اور دنیا کا امن برباد ہو جائے گا۔اور اگر تم قاتل کو قتل نہیں کرتے تو کل کو وہ کوئی اور جان ضائع کرے گا۔کیونکہ بھیڑیے کے منہ میں خون لگ گیا ہے اس لئے اس کی وجہ سے باقی انسان بھی خطرے میں ہیں۔یہاں پر مقتول کے زندہ ہونے نہ ہونے کا سوال نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کا سوال ہے۔کیونکہ جس نے مشرق کی طرف قدم بڑھایا اس کا دوسرا قدم بھی مشرق کی طرف جائے گا اور جس نے مغرب کی طرف پہلا قدم بڑھایا دوسرا بھی مغرب ہی کی طرف جائے گا۔اس لیئے اگر تم قاتل کو نہیں قتل کرو گے تو زیادہ تر امکان یہی ہے کہ اس کا دو سرا قدم بھی یہی ہو گا کہ وہ کسی اور کو قتل کر دے گا۔ہاں اگر غلطی اور نادانی سے اس سے کوئی