خطبات محمود (جلد 9) — Page 195
195 کرنا چاہیے۔یہ نہیں کہ سارے کا سارا غصہ اسی وقت استعمال کر لیا جائے۔مثلاً اگر کسی بچہ کا پاؤں اس کے ہاتھ میں پڑ جائے اور وہ اس وقت بے تحاشہ اس کو مکہ مار دے۔تو اس کی یہ حرکت ایسی ہو گی جیسے کوئی زمیندار بارش کے سارے پانی کو اپنے کھیت میں ڈال لے۔جس طرح اس کا اپنے کھیت میں سارا پانی ڈالنا بے موقع ہو گا۔اسی طرح اس کا اس وقت بچے کو مارنا بھی بے موقع اور بے محل ہو گا۔یہ تو ایک طبعی امر ہے اور قانون قدرت میں یہ بات رکھی گئی ہے۔کہ جہاں اس کو کسی سے دکھ یا تکلیف ہو گی۔وہاں فوراً غصہ پیدا ہو جائے گا۔مگر اس وقت غصے کو روکنا اور حد کے اندر رکھنا اس کا کام ہے۔اسی طرح مالی یا جسمانی ضرورتیں ہیں۔جس وقت انسان کو کوئی مالی یا جسمانی ضرورت پیش آتی ہے تو اس کے اندر طبعا" ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جس سے وہ یہ چاہتا ہے کہ میں کہیں سے مال حاصل کر کے اپنی ضرورتوں کو پورا کروں۔اب اگر اس مادہ کو وہ ایسے رنگ میں استعمال کرے کہ دوسرے کی امانت میں خیانت کر کے اپنی ضرورت کو پورا کرے تو یہ ناجائز ہو گا۔اس خواہش کے پیدا کرنے کی تو یہ غرض تھی کہ وہ ہوشیار اور چوکس ہو جائے۔اگر یہ خواہش اس کے اندر نہ رکھی جاتی جو حرص کی حد سے نیچے نیچے ہو۔تو یہ دنیا میں کچھ بھی نہ کر سکتا۔اسی طرح انسان کے اندر جو غدودیں ہیں۔ان کے بہت سے فوائد ہیں۔دماغ و دیگر قومی کو طاقت دیتے ہیں۔بعض غدود عقل و ہمت اور اخلاق اور شہوانی جذبات پیدا کرتے ہیں۔لیکن اگر ایک انسان صرف شہوانی قومی کے پورا کرنے میں ہی مصروف ہو جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کی عقل میں فتور آجائے گا۔کیونکہ عقل کے پیدا ہونے کا بھی ان میں حصہ تھا۔نہ یہ کہ صرف بچے پیدا کرنا ان کا کام تھا۔تو طبعی تقاضوں کو ان کے دائرہ اور حدود کے اندر رکھنا اخلاق فاضلہ کہلاتا اور حد سے تجاوز کرنے کی صورت میں نقصان ہوتا ہے۔قانون قدرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ کوئی حرکت ضائع نہیں جاتی۔مثلاً ایک پتھر دیوار سے مارو۔تو اس کی حرکت ضائع نہیں جائے گی۔بلکہ اس سے پتھر میں گرمی پیدا ہو جائے گی۔اسی طرح پانی کی آبشار گرنے سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔جس سے ہزاروں بڑے بڑے مفید اور طاقت کے کام لئے جاتے ہیں۔ابھی انگریزوں نے منڈی کی آبشار سے بجلی پیدا کر کے سارے پنجاب کو روشنی پہنچانے کی تجویز کی ہے۔تو ہر ایک طاقت جو پیدا ہوتی ہے اگر اس کو روک لیا جائے اور محفوظ کر لیا جائے۔تو اس