خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 170

170 سکول کی یہ حالت تھی کہ تمام طالب علم نمازوں کے بہت پابند ہوتے تھے اور جو کمزور ہوتے تھے وہ بھی دوسروں کی دیکھا دیکھی نماز با جماعت کے پابند ہو جاتے تھے۔اگر پھر بھی کوئی رہ جاتے تھے تو سکول میں چاروں طرف سے ان کی اس حرکت پر اس قدر ملامت شروع ہو جاتی کہ شاذو نادر ہی کوئی ایسا ڈھیٹ ہوتا ہو گا جو اپنی عادت کو نہ چھوڑے۔مگر یہ اثر تبھی ہو سکتا ہے کہ ہر ایک طالب علم احمدیوں کا سا شعار اختیار کرے۔اگر ہر ایک احمدیت کے شعار کو اختیار نہیں کرتا تو چند ایک کا ایسا کرنا احمدیت کا معیار نہیں ٹھہر سکتا۔اور نہ اس کا دوسروں پر کچھ اثر ہو سکتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔اگر تمام طالب علم نماز با جماعت کی پکی عادت ڈال لیں اور پورے پابند ہو جائیں تو کمزوروں کے اندر خود بخود اس کا احساس پیدا ہو جائے گا۔پہلے ان کی اپنی اصلاح ہو گی اور پھر اس کا اثر ان کے ملنے والے لڑکوں پر ہو گا۔اور اس طرح ان کا حلقہ اثر سکول کے لڑکوں سے باہر تک وسعت پکڑ جائے گا۔بلکہ اگر طالب علم ہمت اور جرأت سے کام لیں تو وہ بڑوں کے لئے بھی نمونہ بن سکتے ہیں اور لوگ عام طور پر ان کی اتباع کریں گے۔اس بات کے بیان کرنے کے بعد کہ سب سے پہلے ہمارے طلباء دوسروں کے لئے نمونہ بنیں۔تاکہ بڑوں میں سے بھی جو نماز با جماعت کے ادا کرنے میں ست ہیں۔ان کے نمونہ سے شرمائیں اور ان کے اندر بھی پابندی کا احساس ہو۔اس وقت میں دو اور باتیں بھی بیان کرنا چاہتا ہوں۔اور وہ بھی اخلاق کی درستی کے لئے ہی ہیں۔دنیا میں اخلاق کی درستی دو طرح سے ہوتی ہے۔ایک تو ایمان کے ذریعے سے۔کہ جس وقت اس سے کوئی بد اخلاقی سرزد ہوتی ہے۔ایمان کی وجہ سے وہ فوراً چوکس اور ہوشیار ہو جاتا ہے۔گویا سوتا تھا۔پھر یکانت جاگ اٹھتا ہے اور ایک اخلاق کی درستی عادت کی وجہ سے ہوتی ہے۔اور عادت بھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک عادت وہ ہوتی ہے جو اپنی ذات میں اچھی ہوتی ہے۔اور ایک عادت وہ ہوتی ہے جو اپنی ذات میں بری ہوتی ہے۔اور پھر جو عادت اپنی ذات میں اچھی ہوتی ہے اس سے اور اچھی عادتیں پیدا ہوتی ہیں۔اور جو اپنی ذات میں بری ہوتی ہیں اس سے اور بری عادتیں پیدا ہوتی ہیں۔پس وہ اچھی اور نیک عادت کہ جس سے اور بھی اچھی اور نیک عادتیں پیدا ہوتی ہیں۔انسان طبعا اس کی بیچ اور عزت کرتا ہے جب وہ اپنے آپ کو اس نیک عادت کی طرف منسوب سمجھتا ہے تو اس کی غیرت اس کے خلاف کرتے ہوئے اس کو ملامت کرتی ہے اور وہ مجبور ہوتا ہے۔کہ اپنا سائین بورڈ درست رکھے۔