خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 139

139 دیکھا۔(1) یہ رسول کریم ان کے سخت ترین دشمنوں کا حال تھا۔انہیں دشمنی بھی اتنی تھی کہ آپ کا چہرہ دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے۔لیکن جب انہوں نے حقیقت کو سمجھا اور ایمان لے آئے تو آپ کے ساتھ ایسی محبت اور تعلق پیدا ہو گیا کہ بوجہ عظمت و جلال آپ کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے تھے۔ہزار ہا لوگ ہماری جماعت کے اندر بھی ایسے پائے جاتے ہیں جنہوں نے مخالفت اور ایذا دہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔لیکن جب انہوں نے سچائی کو سمجھا اور ہدایت کو قبول کیا تو وہی لوگ آپ کے جاں نثار دوست بن گئے۔پھر ہزا رہا ایسے آدمی بھی ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں جو اختلاف خلافت کے موقع پر ہم سے علیحدہ ہو گئے تھے اور مجھے سخت گالیاں دیا کرتے تھے۔لیکن آج وہ ہمارے محب ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اپنی نا سمجھی کی وجہ سے گالیاں دیتے تھے۔۔دراصل ان کا کوئی قصور نہ تھا۔اور جب انہوں نے سچائی کو پا لیا تو وہی لوگ محب بن گئے۔پس مخالفین ہمیں اپنی نا سمجھی اور کم عقلی کی وجہ سے گالیاں دیتے ہیں۔اس لئے ہمارا فرض ہے ہم ان کی گالیوں کے جواب میں ان کو گالیاں نہ دیں اور انہیں قطعاً برا بھلا نہ کہیں۔بلکہ میں جماعت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان کی گالیوں اور سختیوں کو صبر سے برداشت کریں۔تا ان لوگوں کو پتہ لگے کہ ہم ان کے لئے تکالیف اٹھا رہے ہیں اور ان کے ظلم صبر کے ساتھ جھیل رہے ہیں۔جب ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو جائے کہ یہ لوگ ہمارے لئے اتنی تکالیف برداشت کر رہے ہیں تو پھر دیکھنا کس طرح ہزاروں کی تعداد میں وہ ہماری طرف دوڑتے اور جماعت میں داخل ہوتے ہیں۔اگر ان کے مقابلہ میں ہم صبر کے ساتھ کھڑے رہیں اور ان کی ماریں کھاتے جائیں۔ان کی سختیوں اور ظلم کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے کام میں لگے رہیں اور ان کو سچائی اور ہدایت کی طرف بلائیں۔تو ان کے قلوب پر ایسا اثر ہو گا کہ وہ خود بخود ہماری طرف کھنچے چلے آئیں گے۔حضرت حمزہ پر اسی بات کا اثر ہوا کہ آپ دیکھتے مسلمان ماریں کھاتے اور تبلیغ سے باز نہ آتے۔کفار ان پر سخت سے سخت مظالم توڑنے میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھتے۔لیکن وہ ان کو بڑی خوشی کے ساتھ برداشت کرتے۔جب آپ نے ان کی یہ حالت دیکھی تو دل میں خیال کیا کہ یہ لوگ کبھی جھوٹ کی خاطر اتنی تکالیف برداشت نہیں کر سکتے۔پھر اسی بات کا اثر حضرت عمر ان پر بھی ہوا۔کہ آپ بوجہ سخت دشمن اسلام ہونے کے ایک دفعہ گھر سے یہ ارادہ کر کے نکلے کہ آج (نعوذ باللہ) آپ کو قتل کر دونگا۔لیکن راستہ میں انہیں ایک شخص ملا جس نے کہا پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔تمہاری ہمشیرہ اور بہنوئی مسلمان ہو چکے