خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 130

130 18 تلقین صبر و استقامت (فرموده ۱۵ مئی ۱۹۳۵ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : آج میں اپنے دوستوں کو اس فرض کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں جو انبیاء کی جماعتوں کے اہم ترین اور اولین فرائض میں سے ہے۔جس کے بغیر کوئی جماعت ترقی نہیں کر سکتی اور نہ دنیا کو اپنے پیچھے چلنے پر مجبور کر سکتی ہے۔اور جس فرض کی طرف سے مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کے افراد یا جماعتیں ان دنوں غافل ہیں۔حالانکہ وہ فرض ایسا ہے کہ ہر نبی کے زمانہ کے لوگوں نے اس کو پورا کیا ہے اور کوئی جماعت ایسی نہیں گزری جو کامیابی کا منہ بغیر اس فرض کی ادائیگی کے دیکھ سکی ہو۔یہ فرض کیا ہے یہ فرض ہے صبر جو عند المقدرت ہو اور عدم مقدرت بھی۔گو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صبر وہی ہے جو عند المقدرت ہو۔لیکن جب صبر کی حقیقت پر غور کریں تو پتہ لگتا ہے کہ صبر کی بعض قسمیں ایسی بھی ہیں۔جن کی خوبی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ عدم مقدرت ہو۔صبر کا لفظ قرآن کریم میں بہت لطیف اور وسیع معنوں میں آیا ہے اور وہ بہت وسیع مطالب پر حاوی ہے۔لیکن بہت سے لوگ اس کے حقیقی معنوں سے بالکل ناواقف اور بے بہرہ ہیں۔بہت لوگ ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں صبر یہ ہے کہ جب کوئی دکھ یا مصیبت پڑ جائے تو روئیں دہوئیں نہیں۔حالانکہ صبر کے یہ معنی نہیں ہیں۔صبر کے معنی ہر گز یہ نہیں ہیں کہ جب انسان پر کوئی دکھ یا مصیبت یا اور تکلیف آئے یا اس کا کوئی رشتہ دار فوت ہو جائے تو وہ آنسو نہ بہائے اور روئے نہیں۔بلکہ صبر کے یہ معنی ہیں کہ انسان ان تکالیف اور دکھوں پر جزع فزع نہ کرے۔مایوس نہ ہو جائے۔کام چھوڑ نہ بیٹھے اور اپنا قدم پیچھے نہ ہٹائے۔