خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 118

118 وقت گزر جانے کی وجہ سے اتنا روئے کہ خدا تعالیٰ نے کہا اس کو سو نمازوں کا ثواب دے دیا جائے۔آج میں اس لئے وقت پر جگانے آگیا ہوں کہ اگر تم نہ جاگے تو کل کی طرح تمہیں پھر سو نمازوں کا ثواب نہ مل جائے۔(۲) یہی حالت ہمارے دشمنوں کی ہے۔ان کی گھبراہٹ ظاہر کرتی ہے کہ ہماری جماعت کے غیر معمولی اخلاص کو دیکھ کر ان کے دل میں حسد کی آگ زیادہ بھڑک اٹھی ہے۔ظاہر تو وہ یہ کر رہے ہیں کہ بس اب ان کا دیوانہ نکل گیا۔اب یہ چندہ دیتے دیتے تھک گئے ہیں۔لیکن دراصل ان کے دل ہماری جماعت کی قربانیوں کو دیکھ کر سخت دکھ محسوس کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کے اندر جن قربانیوں کا مادہ اور روح پائی جاتی ہے وہ میں نہیں سمجھتا یورپ کی اقوام میں بھی باوجود ان کے حاکم ہونے کے پائی جاتی ہو۔یورپ ایک تہذیب یافتہ ملک ہے۔اور وہاں کے لوگ بے شک بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں اور بہت روپیہ خرچ کرتے ہیں لیکن یورپ میں بھی یہ نظیر نہیں پائی جاتی کہ وہاں کے غرباء ہماری جماعت کے غرباء کی طرح قربانیاں کرتے ہوں۔اور جس طرح ہماری جماعت کے لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں اس کی مثال جب یورپ جیسے متمدن ملک میں بھی نہیں پائی جاتی تو دوسری قومیں جو گری ہوئی اور مغلوب ہیں۔ان میں تو ان کا نشان بھی پایا جانا مشکل ہے۔باقی رہا چندوں سے گھبرانے کا حال۔جس پر اخبار سیاست نے اعتراض کیا ہے۔اس کی حقیقت اس سے معلوم ہو سکتی ہے کہ باوجود روپیہ کی اور روپیہ کی سخت ضرورت محسوس کرنے کے پھر بھی اس سال کا جو بجٹ بنایا گیا ہے۔اس میں پچھلے سال کی نسبت باسٹھ ہزار روپیہ کی زیادتی کی گئی ہے۔اور یہ زیادتی یہاں کی جماعت نے نہیں کی بلکہ تمام جماعت کے نمائندگان جو ہندوستان کے مختلف اطراف سے مجلس مشاورت میں شریک ہونے کے لئے جہاں جمع ہوئے تھے۔انہوں نے متفقہ طور پر اس میں اور زیادتی کی ہے۔کیا چندوں سے گھبرانے والے لوگ بھی اس طرح کرتے ہیں کہ روپیہ کی قلت کی وجہ سے نہ صرف پہلے بجٹ میں کمی نہیں کرتے بلکہ باسٹھ ہزار روپیہ اور دیتے ہیں کہ یہ بھی لے لیا جائے۔کیونکہ پچھلے بجٹ میں کمی ہے۔میں نے دیکھا ہے جب کبھی ہمارے دشمن کوئی اعتراض کرتے ہیں تو ہماری جماعت میں خدا کے فضل سے پہلے سے بھی زیادہ جوش اور اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ جونہی اخبارات میں دشمنوں نے ایسے اعتراضات کرنے شروع کئے کہ یہ چندوں سے گھبرا گئے ہیں۔اس وقت سے بہت سے دوستوں کی طرف سے خطوط آنے شروع ہو گئے کہ پہلے ہمارا ارادہ تھا کہ میعاد مقررہ کے اندر