خطبات محمود (جلد 9) — Page 113
113 قابل ہیں۔ان کو میں خدا کی راہ میں وقف کرتا ہوں۔اب مجھے اس بڑھاپے میں یہ غم نہیں ہو گا کہ میرے بچے میرے کام نہ آئیں گے۔ان کا ایک لڑکا بنگال میں مبلغ ہے۔اور دوسرا ایک سکول ہیڈ ماسٹر۔ان دونوں نے زندگی وقف کی ہوئی ہے۔وہ یہاں سے اپنے وطن تبلیغ کی غرض سے گئے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا۔دوسرے مولوی ابراہیم صاحب مالا باری جو یہاں قادیان میں مٹھائی کی دکان کرتے تھے۔ان کی اہلیہ صاحبہ ہیں جو فوت ہو گئی ہیں۔جب سیلون میں جماعت قائم ہوئی تو مولوی ابراہیم صاحب کو میں نے وہاں کے لئے مبلغ بنا کر بھیجا اور وہ بڑے اخلاص کے ساتھ وہاں کام کرتے رہے۔ان کی بیوی کا اپنے وطن مالا بار میں انتقال ہو گیا ہے۔انہوں نے اس موقع پر اتنا اخلاص دکھایا کہ باوجود اس بات کے جاننے کے کہ ان کی بیوی سخت بیمار ہے اور وہ خود بھی بہت بیمار ہیں۔لیکن پھر بھی انہوں نے اپنی جگہ کو نہیں چھوڑا میں ان کی بیوی کا بھی جنازہ پڑھوں گا۔اس کے بعد میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ جمعہ کی نماز کے بعد میں قرآن کریم کی آخری تین سورتوں کا درس دوں گا۔جو اس درس کے تمہ کے طور پر ہو گا جو حافظ روشن علی صاحب رمضان میں ہر روز دیا کرتے تھے۔اور اس کے بعد دعا ہو گی۔میری جسمانی کمزوری شائد مجھے اتنا موقع نہ دے کہ میں زیادہ وضاحت کے ساتھ اس کے متعلق بیان کر سکوں۔لیکن جتنی بھی خدا تعالیٰ توفیق دے گا بیان کروں گا۔خدا تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرما دے کہ میں اس بابرکت کام کو کر سکوں۔(الفضل ۷ مئی ۱۹۲۵ء)