خطبات محمود (جلد 9) — Page 103
103 ان کو ڈنڈے اور سوئے دے کر کھڑا کرنا پڑا۔اس وقت برطانیہ کی وزارت مشورہ میں مشغول تھی کہ مین دوران مشاورت میں فرانس سے کمانڈر انچیف کا تار آیا کہ اب آخری وقت ہے۔ہم نہیں جانتے کیا نتیجہ نکلے۔جب تار کھولا گیا تو اس کو پڑھ کر وزیر اعظم نے اپنے سب ساتھیوں کی طرف نہایت مایوسانہ نگاہ سے دیکھا اور کہا کہ تمام تجاویز کو چھوڑ کر آؤ اب اس بالا ہستی کی طرف جھک جائیں جس کے سوا اب کوئی ہمیں کامیاب نہیں کر سکتا۔چنانچہ اس حالت میں سب وزراء نے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے اور دعا مانگنی شروع کر دی۔یہ ان لوگوں کا حال ہے جو عام طور پر دہر یہ خیالات رکھتے ہیں۔اور اس وقت کی وزارت کوئی مذہبی جماعت نہ تھی۔مگر وہ وقت ایسا اور اس کی اہمیت ایسی تھی کہ ان کو بھی سوائے خدا تعالیٰ کی طرف جھکنے کے اور کوئی چارہ نظر نہ آیا۔پس دعا کا مسئلہ ایسا اہم اور بنی نوع انسان کے قلوب پر ایسا اثر کرنے والا ہے کہ وہ لوگ جو خدا کی ہستی کے بھی قائل نہیں وہ بھی اس سے باہر نہیں جاتے۔اور ایسے وقت آپڑتے ہیں کہ ان کو بھی مجبوراً خدا کا قائل اور اس کے سامنے جھکنا پڑتا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔نہیں تو کیا وجہ تھی کہ دنیا کے تمام لوگوں پر اس کا اتنا تصرف ہوتا اور کیا وجہ ہے انسان ترقی کرتے کرتے جب مادیت کی آخری حد تک پہنچ جاتا ہے۔اور خدا کی ہستی سے بھی انکار کر بیٹھتا ہے تو اس پر ایسی حالت میں بھی کبھی ایسا وقت آتا ہے کہ اس کو خدا تعالیٰ کے سامنے جھکنے کے سوا چارہ نہیں رہتا۔اگر یہ مسئلہ ایسا عام ہے۔اگر مادیات کے دلدادہ اور دہریہ بھی اس کے ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو وہ لوگ جو خدا تعالٰی کی جماعت میں اپنے آپ کو شامل سمجھتے ہیں کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اس مسئلہ سے پورا فائدہ حاصل نہ کریں۔اگر یہ عمومیت دنیا کے سب لوگوں کے لئے یکساں اہم ہے اور اگر کثرت مشاہدات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایسی بات جھوٹی نہیں تو غور کرو ایک مومن کی ذمہ داریاں دعاؤں کے لئے کتنی بڑھ جائیں گی۔پھر اگر ایک دہریہ اور مادی آدمی بھی دعا سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے قائل ہیں ان کو کس قدر اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔پس میں اپنے دوستوں اور تمام جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دعاؤں کی طرف خاص طور پر توجہ کریں اور اس سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔بہت ہیں جو اس ہتھیار سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔اور بہت ہیں جو اس ہتھیار پر پورا پورا یقین نہیں رکھتے۔اگر ہماری جماعت یک جہتی اور