خطبات محمود (جلد 9) — Page 102
حصہ 102 نہیں رکھتے تھے اور کوئی الہامی کتاب جن کے پاس موجود نہ تھی۔بت پرستی، قمار بازی، شراب خوری ، زنا ، دنگہ فساد جن کا شیوہ تھا۔ان کے حالات کو بھی اگر ہم پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دعاؤں کے وہ بھی قائل تھے۔ان میں بھی ایسا طریقہ اور رواج پایا جاتا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنی درخواستیں پیش کرتے اور ان کی قبولیت کی امید کرتے تھے۔غرض کسی قوم میں چلے جاویں۔دعا کا خیال ہر قوم اور ہر ملک کے لوگوں میں پایا جاتا ہے اور پھر نہ صرف دعا کا خیال بلکہ ان کے اعمال کا نقطہ مرکزی دعا ہوتا ہے۔دنیا کے زبردست سے ا زبردست بادشاہوں کے آثار قدیمہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بادشاہ باوجود بڑا بھاری اقتدار رکھنے کے پھر بھی کسی اعلیٰ ہستی کے سامنے گرتے اور اپنے لئے اپنی حکومت کی وسعت اور مضبوطی کے لئے دعائیں مانگا کرتے تھے۔اگر ان تہذیب حاصل کرنے والے ملکوں کو چھوڑ کر ان لوگوں کو دیکھیں جو تہذیب سے بالکل نا آشنا اور سخت جاہل ہیں۔مثلا امریکہ اور آسٹریلیا کے وحشیوں کو دیکھیں۔تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ وحشی اور وہ غیر مہذب لوگ بھی دعا کے قائل ہیں۔اب ہر انسان سوچ سکتا ہے کہ یہ خیال تمام دنیا کے لوگوں کے دلوں میں کس نے پیدا کر دیا۔متمدن اور غیر متمدن مہذب اور غیر مہذب دنیا کی دلدادہ اور روحانیات کی مشتاق۔غرض کہ تمام اقوام اس عقیدہ کی قائل نظر آتی ہیں۔تمام دنیاوی قومیں دنیا کی ترقیات کے لئے اگر دعائیں مانگتی ہیں تو روحانی قومیں اپنی روحانی ترقیات کے لئے خدا کے حضور جھکتی ہیں۔غرض دعا کا عقیدہ ایسا اثر رکھتا ہے کہ اب بھی جب یورپ مادیات کی رو میں بہہ رہا ہے وہاں اپنے ملک کی ترقیات کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں۔گزشتہ جنگ یورپ کا ایک واقعہ لکھا ہے۔جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں پر مادیات کا گہرا اثر ہے اور وہ آج دہریہ کہلاتے ہیں۔کس طرح ان کو بھی دعا کا مجبوراً قائل ہونا پڑا۔وہ واقعہ اس طرح لکھا ہے۔کہ ۱۹۱۸ء میں جب کہ جرمن چاہتا تھا کہ آخری زور لگا کر جنگ کا فیصلہ کر دے اور وہ فرانسیسیوں اور انگریزوں کی فوجوں پر فتح حاصل کرتا ہوا سو میل سے بھی زیادہ آگے بڑھ آیا تھا۔حتی کہ انگریزی اور فرانسیسی افواج کو یقین ہو گیا تھا کہ چند گھنٹوں تک وہ پیرس تک پہنچ جائے گا اور وہ ایسا وقت تھا کہ دس میل کا فاصلہ انگریزی اور فرانسیسی سپاہیوں کے درمیان خالی پڑا تھا۔جہاں کے لئے آدمی نہ ملتے تھے اور اس حصہ کے جرنیل نے فوج کے نائیوں ، دھوبیوں اور باورچیوں کو حکم دے دیا تھا کہ وہ ڈنڈے اور سوئے لے کر کھڑے ہو جائیں تا وہ رستہ رک جائے۔ہتھیاروں اور گولہ بارود کی بھی اتنی کمی ہو گئی تھی کہ مجبوراً