خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 92

92 13 رمضان المبارک کے متعلق ہدایات (فرموده ۱۰ اپریل ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں آج دعا کے متعلق بعض باتیں اپنے خطبہ میں بیان کرنا چاہتا تھا اور اس وقت تک کہ میں یہاں مسجد میں آیا ہوں میرا یہی ارادہ تھا۔لیکن اب جب کہ میں ممبر پر کھڑا ہوا ہوں مجھے ایک رقعہ دیا گیا ہے جو میرے پچھلے خطبہ کے متعلق ہے۔چونکہ اس کے متعلق پہلے بھی مجھ سے بعض دوستوں نے پوچھا ہے اور مجھے بتایا بھی گیا ہے کہ لوگوں نے میرے اس خطبہ کے مختلف معنی کئے ہیں جو میں نے گزشتہ جمعہ پڑھا تھا۔اس لئے میں اپنے پہلے ارادے کو ترک کر کے اس امر کے متعلق جو مجھ سے پوچھا گیا ہے کچھ بیان کرتا ہوں۔دنیا میں ہر ایک امر جو لوگوں کی عادت اور خیال ، ان کی رسم و رواج کے خلاف ہوتا ہے ہمیشہ اس کے کرنے پر ان کی طبیعت میں قبض پیدا ہوا کرتی ہے۔اور وہ امران کو عجیب معلوم ہوتا ہے۔حتی کہ میں نے دیکھا ہے بہت معمولی معمولی باتیں جو عبادات اور شریعت کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں رکھتیں وہ بھی اگر عادت اور رسم کے خلاف کرنی پڑیں تو بہت بڑی معلوم ہوتی ہیں۔مجھے یاد ہے جب میں مدرسہ میں پڑھا کرتا تھا تو پرانے دستور کے مطابق میں پاجامہ پہنا کرتا تھا۔جو شلوار کے رواج سے پہلے عام طور پر سکولوں میں رائج تھا جو شرعی پاجامہ کہلاتا ہے۔وہ تو اوپر سے کھلا اور نیچے سے تنگ ہوتا ہے۔لیکن وہ اوپر نیچے برابر پتلوں نما ہو تا تھا۔اور وہی میں عموماً پہنا کرتا تھا۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دیکھ کر فرمایا کرتے تھے یہ پاجامہ کیا ہے۔جیسے بندوق کا بگہ (تھیلا) ہوتا ہے۔اب تو بندوقیں بھی پرانے طرز کی نہیں رہیں۔اور نہ ویسے تھیلے ہوتے ہیں۔مگر پہلے اس قسم کے ہوا کرتے تھے۔بعض لڑکوں نے مجھے کہا میں شلوار پہنا کروں۔