خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 91

91 رکھے تو اس کا روزہ نہیں ہو گا۔بلکہ اس کے بدلے اس کو پھر روزہ رکھنا پڑے گا۔پس جو لوگ محض ایک ہی طرف جھک جاتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ان کو درمیانی حالت اختیار کرنی چاہیے۔اور ان مبارک دنوں سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے درمیانی راہ اختیار کرنی چاہیے۔یعنی جب تو ایسی بیماری ہو جس پر روزہ کا برا اثر پڑتا ہو تو خواہ کتنی ہی خفیف ہو روزہ نہ رکھنا چاہیے۔اور اس معاملہ میں لوگوں کی کچھ پروا نہ کرنی چاہیے کہ وہ کیا کہتے ہیں۔یا کیا کہیں گے۔ایسی حالت میں جو لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ خواہ بیمار ہیں مگر ہم برداشت کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔یہ ان کی غلطی ہے۔کیونکہ برداشت کا تو سوال ہی نہیں۔سوال تو بیماری کا ہے۔ہر بیماری جو روزے سے بڑھے اس میں روزہ مت رکھو۔لیکن اس کے مقابلہ میں ایسا بھی نہ کرو کہ محض وہموں کی بناء پر روزہ ترک کر دو کہ شائد روزہ رکھنے سے ہم بیمار نہ ہو جائیں۔یا روزہ رکھنے سے ہم کمزور ہو جائیں گے۔اس طرح روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔ایک کمزوری تو بڑھاپے کی وجہ سے یا دائمی بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے۔ایسے آدمی کو اجازت ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے۔لیکن ویسے جس کو کمزوری رہتی ہو ایسی حالت والوں کو بھی جب تک کہ ڈاکٹر مشورہ نہ دے روزہ رکھنا چاہیے۔میں دوستوں کو پھر اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ افراط تفریط سے کام نہ لیں۔اور اس مبارک مہینے سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔اور اپنی روحانیت کو بڑہا ئیں۔جس طرح جس کم ہوتی ہے وہ بڑھتی بھی ہے۔اسی طرح احساسات بھی بڑھ سکتے ہیں اور انسان اپنے جسم کے اندر روحانیت کا ایک نمایاں اثر محسوس کرتا ہے۔چونکہ یہ رمضان کا مہینہ ہے۔اس لئے میں نے اس کے متعلق خطبہ پڑھا ہے۔اور چونکہ اس مبارک مہینہ میں دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں اس لئے میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلام کی ترقی کے لئے دعائیں کریں اور سلسلہ کے راستوں میں جو روکیں ہیں ان کے دور ہونے اور کابل کے مظلوم بھائیوں کے لئے اور اس ملک میں بھی اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے بہت بہت دعائیں کریں۔الفضل ۱۱ اپریل ۱۹۲۵ء)