خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 90

90 روزہ سے تعلق بھی ہو۔اور ایسی حالت میں خواہ بیماری کتنی ہی خفیف کیوں نہ ہو اس میں مبتلا روزہ ترک کر سکتا ہے۔کیونکہ جب روزہ کا مضر اثر اس بیماری پر پڑتا ہے تو وہ بڑھ جائے گی۔میرے نزدیک نزلہ خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو۔ایسی بیماری ہے جس کا روزہ سے تعلق ہے اور ایسے لوگوں کے لئے جنہیں نزلہ ہوتا ہے روزے رکھنے بہت مضر اور بڑے نقصان کا موجب ہوتے ہیں۔نزلہ کے نتیجہ میں انسان کو پیاس زیادہ لگتی ہے۔اب روزے کے ساتھ جب وہ پیاس کو دبائے گا تو وہ اور بھی زیادہ بڑھے گی اور یہ نزلہ کے لئے بہت مضر ہے۔پس بسا اوقات بعض بیماریاں دیکھنے میں تو معمولی ہوں گی۔لیکن روزے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان کا نقصان بہت بڑا ہو گا۔اس لئے ایسی بیماری میں روزہ نہ رکھنا چاہیے۔اسی طرح بعض بیماریاں دیکھنے میں بہت بڑی ہوں گی۔لیکن روزے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔اس لئے روزہ ان میں ترک کرنا جائز نہیں ہو گا۔اور بعض اوقات تو خود روزہ صحت کا باعث بن جاتا ہے۔میں اپنی ذات کے متعلق ہی بتاتا ہوں۔میں عام طور پر بیمار رہتا ہوں۔اور خدا تعالیٰ نے مجھے اپنی بیماری کے متعلق یہ فیصلہ کرنے کی سمجھ دی ہے۔کہ اس پر روزہ رکھنے سے کیا اثر پڑے گا۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس میں غلطی نہیں کر سکتا۔بلکہ بعض دفعہ میرا اندازہ بھی غلط نکلتا ہے۔انہی ایام میں میں نے اپنی حالت کا جب اندازہ لگایا تو میں نے محسوس کیا کہ اگر میں روزہ رکھوں تو برداشت نہیں کر سکوں گا۔مگر بیماری پر اثر نہیں پڑے گا۔چنانچہ کے طور پر میں نے پہلا روزہ رکھا۔جس سے نہ صرف کوئی نقصان نہ ہوا بلکہ طبیعت میں بشاشت پیدا ہوئی۔تب میں نے سمجھا اپنی بیماری کے متعلق جو میرا خیال تھا کہ شائد روزہ رکھوں تو کوئی نقصان نہ ہو۔وہ ٹھیک ہے۔اور جو خطرہ تھا کہ ممکن ہے نقصان ہو وہ غلط تھا۔پس جس بیماری پر روزہ کا کوئی اثر نہ ہو اس پر اس بیماری کا حکم عائد نہیں ہو سکتا جس کی وجہ سے روزہ ترک کر دیا جائے۔ہاں اگر روزہ کا بیماری پر اثر پڑتا ہو اور جس حالت میں ڈاکٹر یہ مشورہ دے کہ اس بیماری میں روزہ سے نقصان پہنچے گا۔اس میں روزہ ترک کرنا چاہیے۔پس جہاں میں بلا وجہ اور بلا عذر روزہ نہ رکھنے کے سخت خلاف ہوں۔وہاں میں ان لوگوں کے اجتہاد کا بھی قائل نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ انسان جب مرنے لگے تب روزہ چھوڑے۔ورنہ نہ چھوڑے۔ایسا کوئی حکم شرع میں نہیں آیا۔قرآن کریم میں صاف حکم فمن كان منكم مريضا" (البقره ۱۸۵) پس جس مرض پر کہ روزے کا برا اثر پڑتا ہو۔خواہ نزلہ ہی ہو مثلاً مجھے اگر نزلہ ہو۔تو میں روزہ نہ رکھوں گا پس ایسے مرض میں خواہ وہ خفیف ہی ہو روزہ رکھنا جائز نہیں۔اور اگر کوئی روزہ