خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 83

83 وه اس وقت گزرتا ہے۔جب، برف پڑ رہی ہے۔بارش برس رہی اور ہوا تیز چل رہی ہے۔مگر وہ اس برف باری اور بارش اور ہوا کی تیزی میں بھی ایک دن میں پندرہ پندرہ ہیں میں میل سفر کرتا چلا جاتا تہ ہے۔وہ ان حالات میں کوئی تکلیف محسوس نہیں کرتا۔اور اگر اسے کچھ تکلیف محسوس ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ کرتا ہے کہ برف کو کپڑوں اور ہاتھ پاؤں سے جھاڑ دیتا ہے اور پھر بڑی بے پرواہی کے، ساتھ چل پڑتا ہے۔پھر ہمیں ایک ایسا آدمی بھی نظر آتا ہے کہ جو اس برف میں بغیر بوٹ کے نہیں چل سکتا۔اس کے پاؤں میں ایسے بوٹ ہوں جو برف کی سردی سے بچا سکیں تب وہ اس برف ، میں سفر کر سکتا ہے۔پھر ایک تیسرا آدمی ہمیں ایسا نظر آتا ہے کہ وہ بغیر موٹی جرابوں اور بوٹوں کے اس میں نہیں چل سکتا۔پھر ایک اور آدمی ہمیں ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اس سردی اور برفانی علاقے میں موٹی جرابوں اور بوٹوں کے ساتھ بھی نہیں چل سکتا۔جب تک کہ اس کے پاس کوئی گاڑی اور سواری کا انتظام نہ ہو۔اسی طرح پھر ایسے لوگ بھی ہمیں نظر آتے ہیں کہ جو شہر کی گلیوں کی ہوا کو بھی برداشت نہیں کرسکتے۔پھر ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں کہ جو گھروں کے صحن میں نہیں بیٹھ سکتے۔ان کو نہ گلیوں کی ہوا موافق آتی ہے نہ گھروں کے صحنوں کی ہوا کو وہ برداشت کر سکتے ہیں۔بلکہ اوہ گھر کے کمرے میں آرام پاتے ہیں پھر ایسے کمزور بھی ہوتے ہیں کہ جو کمرے میں بھی بغیر آگ کے نہیں بیٹھ سکتے اور پھر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی حس اس قدر باریک ہوتی ہے کہ وہ آگ سے بھی آرام نہیں پاتے۔ان کو گرم کپڑوں اور بسترے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔مگر پھر بھی وہ گنٹھیا وغیرہ شدید امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔کیا ان مختلف احساس والے انسانوں کے اس اختلاف اور کھلے کھلے فرق کو دیکھ کر کہ ایک شخص تو برف کی بھی کچھ پرواہ نہیں کرتا اور ایک بند کمرے میں آگ اور گرم کپڑوں اور بستر کی موجودگی میں بھی اس سردی سے دیکھ پاتا ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ایک ہی علاقہ میں ان تمام قسم کے آدمیوں کے لئے الگ الگ سردیاں ہیں۔نہیں۔سردی ایک ہی ہے۔فرق اگر ہے تو احساسات کا فرق ہے کہ ایک تو تیز ہوا اور سردی کی کچھ پرواہ نہیں کرتا اور اس کو کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔مگر ایک اس سردی میں گرم کپڑوں اور آگ سے بھی آرام نہیں پاتا۔اسی طرح ایک وہ ہے جو سخت گرمی میں جس وقت تیز لو چل رہی ہو اور تمازت آفتاب سے بدن جھلسے جاتے ہوں۔ننگے پاؤں گا تا ہوا بلکہ سر پر بوجھ اٹھائے ہوئے مزے کے ساتھ چلا جاتا ہے۔مگر ایک وہ ہوتا ہے کہ گھر میں بیٹھا ہوا ہے۔کمرہ چھڑکاؤ وغیرہ کر کے سرد کیا ہوا ہے۔برف کا ٹھنڈا پانی اور شربت موجود ہے۔اور خس کی مٹیاں بھی لگی ہوئی ہیں۔مگر پھر بھی وہ ہائے ہائے اور اف اف کر