خطبات محمود (جلد 9) — Page 74
74 رہی ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم واقعات کو بار بار دھرائیں اور ان کو زندہ اور تازہ رکھیں۔پھر قومی زندگی کے قیام کا بھی یہ ایک بہترین ذریعہ ہے۔شیعوں کو ہی دیکھ لو وہ ہر سال اس طرح روتے اور پیٹتے اور طرح طرح کی حرکات کرتے ہیں کہ جو بالکل مضحکہ خیز معلوم دیتی ہیں۔ایک واقعہ جس پر تیرہ سو سال گزر گئے ہیں مگر اتنے عرصہ بعد بھی بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور معزز لوگ ننگے پاؤں اور ننگے سر گھروں سے نکلتے اور اس طرح روتے پیٹتے ہیں جیسا کہ ابھی تازہ واقعہ ہوا ہے۔وہ کاغذوں کی قبر بناتے اور دلدل نکالتے ہیں۔حالانکہ ممکن ہے جب سے اس گھوڑے کو دلدل قرار دیا گیا ہو اس کے بعد تو نہ سہی مگر اس سے پہلے کئی اوباش آدمی بھی اس پر سوار ہوتے رہے ہوں گے۔اس کو آگے آگے لئے ہوئے کالے کالے رومال ہلاتے جاتے ہیں اور آنسو بہاتے جاتے ہیں۔ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو آنسو بہانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔کیونکہ بغیر اس کے وہ مومن نہیں کہلا سکتے۔اور بعض چند پیسوں اور بعض پلاؤ کی ایک رکابی پر روتے پیٹتے اور زخموں سے خون بہاتے ہیں مگر ان میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو فی الواقعہ ان گزرے ہوئے واقعات کی یاد سے درد محسوس کر کے رو رہے ہوتے ہیں۔بے شک یہ واقعات اس قسم کے ہیں کہ اگر سنجیدہ پہلو سے ان پر غور کیا جائے تو اس قسم کی حرکات کے مرتکب لوگ ایک مضحکہ نظر آئیں گے۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کی یہی حرکات ہیں۔جن کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں لوگ شیعہ ہو جاتے ہیں۔اور ان کی یہ حرکات ہی ہیں۔جنہوں نے شیعیت کو قائم رکھا ہوا ہے۔اگر چند سال بھی وہ ان حرکات کو ترک کر دیں تو شیعہ مذہب کا نام و شان نہ رہے۔کیونکہ اس کے بغیر اور کوئی بات ان میں ایسی نہیں پائی جاتی جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کو قائم رکھ سکیں۔اس لئے ان کو لوگوں کی ہنسی اور مضحکہ کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔اور وہ اپنی قومی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے حضرت امام حسین کے واقعات کو تازہ اور زندہ رکھتے ہیں۔تو واقعات کا تکرار ایسی چیز ہے جس سے مردہ احساسات زندہ ہو جاتے اور قوم میں زندگی کی روح قائم رہتی ہے۔دوسرا فائدہ ہماری صدائے احتجاج بلند کرنے کا یہ بھی ہے کہ گو ان لوگوں پر جو ہمارے بھائیوں پر ظلم و ستم کر رہے ہیں اس کا کوئی اثر نہ ہو۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان خبروں کے پہنچنے پر ہمارے ان مظلوم بھائیوں کے دل ضرور بڑھ جاتے ہوں گے اور وہ اس بات سے ضرور خوشی حاصل کرتے ہوں گے کہ ان کے دوسرے بھائیوں کو ان کی فکر ہے اور وہ ان سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں۔گو وہ اپنی مجبوری سے کچھ کر نہیں سکتے۔کیونکہ ان کے پاس کوئی حکومت نہیں، طاقت نہیں۔