خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 2

2 فضل سے ہی ہوا۔پس خدا تعالی کے فضلوں اور اس کے احسانوں اور غریب نوازیوں پر ہم سے بڑھ کر دوسرا کون ہے کہ وہ انشراح صدر سے الحمد للہ رب العالمین کہہ سکے۔دوسرے لوگ باوجود ہم سے زیادہ عقل رکھنے کے ان کی عقلیں ان کو کام نہ دے سکیں۔ورنہ جو کام خدا نے ہم سے لیا وہ اس کام میں بڑھ کر حصہ لیتے اور کامیاب ہوتے۔پس وہ بیج جو بویا گیا وہ خدا کے فضل سے بڑھے گا اور پھولے گا اور پھلے گا اور اس کی رحمت کے سائے کے نیچے وہ ہمیشہ ہمیش اپنے تازہ سے تازہ ثمرات لاتا رہے گا اور زیادہ سے زیادہ بخشش اس کی ہم پر ہو گی اور ہماری ناچیز محنتیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔بڑی بڑی حیثیتیں رکھنے والے علم کے لحاظ سے ، عقل کے لحاظ سے مال کے لحاظ سے ، رتبہ و شان کے لحاظ سے اس خدمت اور کام کے کرنے سے محروم رہے۔مگر خدا تعالیٰ نے ہماری جہالتوں اور ہماری کمزوریوں پر چشم پوشی کر کے اس خدمت اور اس کام کا ہمیں موقع عطا فرمایا اور سلسلہ کو وہ شہرت اور کامیابی عطا فرمائی جو کسی انسان کے اقتدار میں نہیں۔پس خدا تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا شخص اس قابل نہیں ہو سکتا جس کے لئے یہ واجب ہو کہ خلوص دل سے ہم اس کو ایاک نعبد و ایاک نستعین کہیں کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی اپنے کاموں میں مدد چاہتے ہیں جہاں سے انسان کو بہتر سے بہتر تعلیمیں ملتی ہیں اور جہاں سے دنیا کے بادشاہوں کو حکومتیں اور بادشاہتیں ملتی ہیں اور جہاں سے مالدار تمام قسم کے مال اور ہر قسم کی چیزیں حاصل کرتے ہیں اور جس کے حضور یہ مال و متاع حقیر اور بیچ ہیں اور جہاں سے انسان کو جتنی زیادہ نعمتیں ملتی ہیں۔اتنی ہی زیادہ اس کی ذمہ داریوں اور بوجھ کو بڑھا دیتی ہیں۔ایک غریب آدمی جو مفلس اور نادار ہے وہ تو رات کو آرام کی نیند سو رہتا ہے لیکن ایک مالدار کو جہاں اپنے مال کی خود حفاظت اور نگرانی کرنی پڑتی ہے وہاں اس کو نوکر بھی رکھنے پڑتے ہیں جو اس کے مال کو تباہی سے بچائیں۔پس آج ہم سے زیادہ کوئی اس بات کا مستحق نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم کہہ سکے۔کہ اے خدا ہم تو نا اہل تھے۔مگر تو نے اپنے فضل و کرم سے ہم پر وہ انعام اور وہ برکتیں نازل فرمائیں جو دوسرں پر نہیں۔ہم بے کس ہیں۔نااہل ہیں۔تیرے انعامات کو جاننے اور سمجھنے کی ہم میں توفیق نہیں۔ایک نا سمجھ اور بے خبر جس نے شیشے سے زیادہ کچھ نہ دیکھا ہو وہ ہیرے کی کیا قدر کرے گا اور ایک شخص جس کو پھٹے پرانے کپڑے بھی میسر