خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 44

44 لگتا ہے کہ مکہ کے لوگ کس قدر بچاؤ کی کوشش کرتے تھے۔خدا تعالیٰ کے انبیاء بے شک سورج کی طرح ہوتے ہیں مگر سورج کی روشنی بھی اسی وقت تک فائدہ دے سکتی ہے جب اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔خدا تعالیٰ نبی اس وقت مبعوث کرتا ہے جب کہ لوگوں کے دل اس قدر گندے ہو جاتے ہیں کہ ان کو مرض کا احساس ہی جاتا رہتا ہے اور ان کی حالت اس پاگل اور مجنون شخص کی ہو جاتی ہے جو اپنی مرض کے وجود کو ہی نہیں مانتا۔اگر اس کو کہا جائے کہ تو بیمار ہے تو وہ لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔دیکھو سوتے کا جگانا آسان ہے مگر جاگتے کو کون جگائے۔ان کی مثال اس چھوٹے بچے کی ہوتی ہے جو انگارے کو سرخ سمجھ کر پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔جب ماں باپ اسے منع کرتے ہیں تو ان کو اپنا دشمن خیال کرتا ہے۔اس بچے کا علاج تو جلدی ہو جاتا ہے کہ ذرا ہوش سنبھالتا ہے تو وہ اصل حقیقت سمجھ جاتا ہے۔مگر اس بے دین کا علاج تو بہت ہی مشکل ہے کیونکہ اسے تو مرنے کے بعد ہی پتہ لگے گا۔اس لئے اس کی حالت بہت ہی قابل رحم ہے۔اسی طرح ان لوگوں کو جنہیں خدا تعالی نے حق قبول کرنے کی توفیق دی ان کا بھی فرض ہے کہ پوری کوشش سے اپنے بھائیوں تک بھی یہ روشنی پہنچا دیں۔مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگ صرف سچائی کو قبول کر کے بیٹھ رہتے ہیں اور اس کو آگے پہنچانا اپنا فرض نہیں سمجھتے۔دیکھو اگر کوئی شخص ڈوب رہا ہے اور ایک آدمی کھڑا تماشا دیکھتا رہے اور اسے بچائے نہیں۔تو لوگ اسے یہی نہیں کہیں گے کہ اس نے غلطی کی بلکہ اسے اس کا قاتل کہیں گے اور ایسا جیسا اس نے گلا گھونٹ کر اسے مار دیا۔جو شخص پانی میں ڈوتا ہے۔اس کی تو ایسی عارضی زندگی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ممکن ہے کہ وہ نیک آدمی ہو اور خدا تعالیٰ اس کی اس بے وقت موت کی وجہ سے اسے جنت عطا کرے۔مگر وہ لوگ جو حق کے قبول کرنے سے قاصر رہے وہ تو اس دنیا میں بھی نامراد رہے اور آخرت میں بھی۔اور بعض لوگ ہماری جماعت میں ایسے ہیں جو نا امید ہو جاتے ہیں۔اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ایسے مخالف کس طرح مان جائیں گے۔لیکن وہ اگر ذرا بھی اپنی سابقہ حالت پر غور کرتے کہ وہ خود کیسی مخالفت کرتے رہے۔مگر باوجود اس کے جب ان کو حق نظر آ گیا تو وہ ماننے کے لئے مجبور ہو گئے۔کسی نے ان کے دل کی کھڑکیاں توڑ کر ان کے دل میں روشنی پہنچا دی۔افسوس ہے کہ وہ اپنے تجربہ کو بھول گئے۔تیسرا گروہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ آپ ہی مان جائیں گے مگر وہ اتنا نہیں سمجھتے کہ خدا تعالیٰ نے ہر کام کے لئے کچھ اسباب اور تدابیر مقرر کی ہیں۔جب تک ان سے کام نہ لیا جائے کام نہیں چلتا۔