خطبات محمود (جلد 9) — Page 367
367 آپ تو شرک مٹانے کے لئے آئے تھے اور آپ نے ایسا ہی کیا۔پس آپ کا ایسا کرنا ضرور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کام شرک نہیں بلکہ اس سے روحانیت بڑھتی اور خشیت اللہ پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ قبروں پر جا کر جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ یہ انجام ہے انسان کا۔تو اسے عبرت عبرت حاصل ہوتی ہے کہ ایک دن میرا بھی یہ انجام ہو گا۔اس سے اس کے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو جاتا ہے۔بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ ایک انسان جو اپنی طاقت اور اپنی دولت کے لحاظ سے فرعون بنا پھرتا ہے۔جب وہ قبروں میں سے گزرتا ہے۔تو اسے اپنا انجام یاد آجاتا ہے اور وہ فرعونیت کو چھوڑ دیتا ہے۔یا یر کسی کی نصیحت کا اثر نہیں ہوتا تھا یا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے دل میں خشیت خدا پیدا ہو جاتی ہے۔اس کا دل نرم ہو جاتا ہے اور وہ ان سب چیزوں کو فانی اور اپنی ہستی اور زندگی کو زوال پذیر سمجھ کر خدا کے آگے جھک جاتا ہے اور ایسی عبرت حاصل کرتا ہے کہ اس کے اندر ایک حیرت ناک تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔پس یہ ثابت شدہ بات ہے کہ ایسے مقامات کا اثر انسان کی طبیعت پر ہوتا اس پر ہے۔حد ثوں میں آتا ہے ایک دفعہ آنحضرت ا مع صحابہ جب اس مقام پر سے گزرے۔جہاں قوم ثمود پر عذاب نازل ہوا تھا۔تو فرمایا۔اس رستہ سے نہ گزرو اور اگر گزرتے ہو تو روتے ہوئے گزرو اور اگر کسی نے اس حصہ کے پانی سے آٹا گوندھ لیا ہے تو اسے پھینک دو کیونکہ یہاں خدا کا عذاب نازل ہوا تھا۔اس سے ظاہر ہے کہ اس جگہ سے جہاں خدا کا عذاب نازل ہوا۔آپ نے اسی طرح خوف کھایا۔جس طرح کہ آپ ا نے اس جگہ سے خوشی حاصل کی جہاں خدا کا جلال ظاہر ہوا۔اب اگر کوئی کہے کہ جگہوں میں کیا گھس گیا ہے کہ ان کی طرف خاص توجہ کی جائے اور ان کا احترام کیا جائے۔تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔اسے نہیں معلوم کہ خدا تعالیٰ نے اپنی مصلحتوں کے ماتحت انہیں اپنے بعض نشان دکھانے کے لئے مخصوص کر لیا اور ان میں سے بعض کو شعائر اللہ قرار دے دیا۔پس جب خدا تعالیٰ ان کو مخصوص کرتا ہے۔تو کیا بندہ کے لئے یہ ضروری نہیں کہ جس جگہ خدا کا جلال ظاہر ہو۔اس جگہ کی عزت کرے اور جس جگہ پر اس کا غضب بھڑکا اور عذاب نازل ہوا ہو۔اس جگہ سے خوف کھائے۔خدا تعالیٰ جب خود بعض مقامات کو شعائر اللہ میں سے قرار دیتا ہے۔تو یہی بات اس امر کے لئے کافی ہے کہ شعائر اسلام کا احترام ضروری ہے۔پھر یہی نہیں کہ یونسی ان مقامات کا احترام ضروری قرار دیا گیا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت