خطبات محمود (جلد 9) — Page 362
362 میں عرض کی۔کہ آپ مجھے بہت پیارے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔کیا جان سے بھی بڑھ کر میں پیارا ہوں؟ حضرت عمر اللہ نے کہا۔ایسا تو نہیں۔آپ نے فرمایا کہ جب تک میں تمہیں جان سے بڑھ کر پیارا نہ لگوں۔تب تک تمہارا ایمان بھی کامل نہیں ہو سکتا ۲؎ تو جب ایمان کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ آپ کی محبت سب سے زیادہ ہو۔تو پھر کیونکر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ کے مرنے کے بعد آپ کے جسم سے اگر محبت نہ بھی ہو۔تو کوئی حرج نہیں۔پس کیا بلحاظ آپ کے احسانات کے اور کیا بلحاظ اس ایمان کے جو ہم میں پیدا کیا گیا۔ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم آپ کے جسم کی حفاظت آپ کی وفات پانے کے بعد بھی اسی طرح اور اسی محبت سے کریں۔جس طرح اور جس محبت کے ساتھ کہ آپ کی زندگی میں آپ کے جسم اور جان کی حفاظت کی جاتی تھی اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے جسم کی حفاظت کرنا یہی ہے کہ اسے دشمنوں کی منصوبہ بازیوں اور ان کی شرارتوں سے بچایا جائے۔مجھے حیرت ہے کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وفات کے بعد رسول کریم ﷺ کے مزار کی حفاظت کی ضرورت نہیں اور اس کے احترام کی حاجت نہیں۔حالانکہ ان کے بڑے تو بڑے اگر ایک بچہ بھی مرجاتا ہے تو وہ اس کے بے جان جسم کی حفاظت کے لئے سب کچھ ہی کرتے ہیں۔کیا ایک چند دن کا چھیچھڑا بھی جو مرجاتا ہے۔اس کے جسم کو احتیاط کے ساتھ زمین میں دفن نہیں کیا جاتا اور اس کی قبر کی حفاظت نہیں کی جاتی۔اگر کی جاتی ہے تو کیا یہ شرک ہے۔کیا ہم پسند کرتے ہیں کہ کوئی جا کر ہمارے بچہ کی قبر کھود ڈالے۔اگر کوئی ایسا کرے تو اس وقت ہمیں تکلیف نہیں ہوگی۔پس اگر ایک بچے کی قبر کو ملیا میٹ کرنے کے لئے کوئی شخص ہاتھ اٹھاتا ہے تو ہمارا جوش انتہائی درجہ پر آجاتا ہے اور وہ محبت جو اس کے لئے ہمارے دل میں مرنے کے بعد بھی ہوتی ہے۔ہمیں مضطرب کر دیتی ہے۔تو جب ایک بچے کے لئے جس کی کوئی بھی قدر و قیمت نہیں ہوتی ہمیں جوش آجاتا ہے۔تو کیا وجہ ہے کہ رسول کریم ان کے مزار کے لئے جن کی قدر و قیمت کی کوئی حد ہی نہیں۔ہمیں جوش پیدا نہ ہو۔پس وہ موحد قوم جس نے شرک کی بعض کڑیوں کو توڑ دیا۔اس پر غور کرے اور دیکھے کہ وہ اپنے اس فعل سے کیا بات ثابت کر رہی ہے اور حفاظت کے سوال کو کس حد تک مد نظر رکھ رہی ہے۔یہاں تو ایک گنبد کے لئے شور برپا ہے مگر میں کہتا ہوں حفاظت کے لئے اگر ایک سے زیادہ گنبد بھی بنانے پڑیں تو بنانے چاہئیں۔جس قدر بھی ہم آپ کے جسم کی حفاظت کر سکیں۔اتنی کرنی