خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 31

31 کاموں کی تلاش کی جائے اور ایسے کام مہیا کئے جائیں جن کو وہ لوگ بھی کر سکیں۔اس لئے موجودہ حالت میں ایسے لوگوں کو جو کہ بالکل کوئی کام نہیں کر سکتے دوسروں سے الگ کر دیا جائے۔کیونکہ وہ مجبور ہیں۔ان کا حق ہے کہ جماعت ان کا بوجھ اٹھائے۔اگر کوئی جماعت اپنے اس قسم کے معذور افراد کا بوجھ نہیں اٹھائی تو وہ معزز جماعت کہلانے کی مستحق نہیں۔بلکہ وہ مردہ جماعت ہے۔وہ لوگ ایسے ہی روزی دیئے جانے کے مستحق ہیں۔جیسا کہ ایک سارا دن محنت کرنے والا شخص۔آنحضرت نے ایک جہاد کے سفر میں فرمایا کہ کئی لوگ ایسے ہیں کہ تم کسی وادی سے نہیں گزرتے کہ وہ تمہارے ساتھ ہوتے ہیں اور کوئی اجر نہیں جو تم کو ملتا ہو اور وہ ان کو نہ ملے۔حالانکہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔صحابہ نے سوال کیا کہ جب انہوں نے ہمارے ساتھ سفر نہیں کیا ہماری تکلیفوں میں وہ شریک نہیں ہوئے وہ گھر بیٹھے اس اجر میں کیسے شریک ہو گئے۔آپ نے فرمایا ان کا تمہارے ساتھ سفر نہ کرنا اور تمہاری تکلیفوں میں شریک نہ ہونا اس لئے نہیں کہ وہ طاقت رکھتے تھے اور پھر وہ شریک نہیں ہوئے۔بلکہ اگر ان کی آنکھیں ہوتیں ، ان کے ہاتھ ہوتے ان کے پاؤں ہوتے تو وہ بھی تمہارے ساتھ جہاد کے لئے نکلتے۔وہ تو دل میں کڑھتے ہیں۔مگر کچھ کر نہیں سکتے مجبور ہیں۔اس سے ہم کو ایک قاعدہ ہاتھ لگتا ہے اور وہ یہ کہ جو اس قسم کے معذور اور مجبور ہیں۔وہ ہمارے پیسوں کے اسی طرح مستحق ہیں جس طرح کہ ایک محنتی محنت کر کے ہم سے پیسے لینے کا مستحق ہو جاتا ہے۔جو مدینہ سے باہر نہیں جاسکتے تھے شریعت کی رو سے خدا کے انعاموں اور اس کے پیدا کئے ہوئے خزانوں پر ان کو ایسا ہی حق دیا گیا ہے جس طرح کہ ایک محنتی سارا دن محنت کر کے ان پر حق حاصل کرتا ہے۔پس ان تینوں قسم کے لوگوں کی فہرست کو مکمل کیا جائے اور یہ کام امور عامہ کا ہے ( آپ نے صیغہ جات کے افسروں کو مستعدی اور کام کی فکر رکھنے اور کام کرنے کی لگن اور اپنے اندر ایک دھن پیدا کرنے کی نہایت موثر پیرایہ میں توجہ دلائی۔فرمایا اصل ایمان یہ ہے کہ دست در کار اور دل بایار ہو۔لوگ کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ ہے وہ کوئی کام نہیں کرتا۔کیونکہ خدا کی محبت ایسی نہیں کہ کوئی دوسری بات بھی یاد رہے۔اس لئے وہ تو اخلاقی علمی یا سیاسی نگرانی چھوڑ کر گوشہ خلوت میں یاد الہی میں لگے رہتے ہیں۔میں ایسے شخص کو بزرگ نہیں سمجھتا۔جو مصلی بچھا کر اللہ اللہ کرتا رہتا ہے۔بلکہ میرے نزدیک بزرگ وہ ہے جو اخلاقی نگرانی کرتا ہے۔علمی نگرانی کرتا ہے۔سیاسی نگرانی کرتا ہے۔منتظم جماعتوں کے افسروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسا کریں۔جو ایسا نہیں کرتا آنحضرت نے اس کو قابل الزام ٹہرایا ہے۔آپ نے فرمایا ہے۔