خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 337

337 مگر دمشق پر ستاون گھنٹہ گولہ باری کی گئی اور ایسے اندھا دھند طور پر کی گئی کہ کسی زبردست سے زبر دست قلعے پر بھی اس قسم کی گولہ باری نہیں کی جاتی مگر باوجود اس کے ان لوگوں کو محسوس تک نہیں ہوا کہ کیا ہوا۔اور اگر اس بات کو مد نظر رکھا جائے کہ یہ گولہ باری عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور نستے شہریوں پر کی گئی تو میرے خیال میں کوئی بھی ایسا شخص نہ ہو گا۔جو فرانسیسیوں کے اس فعل کو برا نہ کے اور اسے ظلم نہ قرار دے۔ان حالات کے ماتحت ہر ایک شخص مانے گا کہ یہ جو کچھ ہوا۔سخت ظلم ہوا اور یہ ان لوگوں کی خطرناک غلطی ہے مگر تعجب ہے کہ اس غلطی کے معلوم ہو جانے پر بھی یورپ سے کوئی آواز نہیں اٹھی اور مظلوموں کی ہمدردی کے لئے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا گیا۔اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یورپ والے باوجود انسان ہونے کے ہمدردی پر جو مائل نہیں ہوتے۔تو یہ کارروائی ان کی طرف سے بالا رادہ ہوئی۔میں کہتا ہوں۔ہمدردی اگر وہ نہیں کر سکتے تھے۔تو کیا ظالم کا ہاتھ بھی نہیں روک سکتے تھے؟ فرانس کے اس ظلم کو دیکھ کر وہ فرانس کو اس سے روک سکتے تھے۔مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور بالکل خاموش رہے۔ان کی یہ خاموشی ظاہر کر رہی ہے کہ یہ غلطی نہ تھی جو اتفاقیہ ہو گئی ہو بلکہ ارتکاب جرم تھا جو بالا رادہ کیا گیا۔نہیں ہو اگر یورپ کے کسی شہر پر اس قسم کی کیا اس سے بدرجہا کم گولہ باری کی جاتی تو پھر دیکھتے۔وہ کیا کچھ نہ کر گزرتے۔اگر ایک شخص بھی کسی جگہ ان کا مرجاتا ہے تو کئی لاکھ فوجیں اس جگہ جا کر جمع ہو جاتی ہیں۔مگر یہ لوگ جو مارے گئے۔ان کے لئے ان کے اندر ایک خفیف سی ہمدردی کی حرکت بھی پیدا نہیں ہوئی۔اس گولہ باری سے جو لوگ مرے۔ان کی تعداد کا صحیح اندازہ اس وقت نہیں ہو سکتا۔گو ان کی تعداد کے متعلق مختلف رنگ آمیزیوں سے کام لیا جا رہا ہے۔مگر اس بات سے تو انکار سکتا۔کہ اس حادثہ سے کوئی مرا ہی نہیں۔ان دروزیوں کو الگ کر دو۔جن کے متعلق بغاوت کا الزام ہے مگر ان باشندوں کی ہلاکت کے متعلق فرانس کے پاس کیا جواب ہے جو ان کی بے پناہ گولہ باری سے مرگئے اور جن کا کوئی قصور بھی نہیں تھا۔عجیب بات یہ ہے کہ دروز مرے ہی نہیں۔مارے گئے شہر کے باشندے۔مگر افسوس کہ اتنے بڑے واقعہ پر جس نے دلوں کو ہلا دیا۔یورپ کی طرف سے کوئی بھی ہمدردی کی آواز نہیں اٹھی اور کوئی قوم اس واقعہ کی تحقیق کے لئے تیار نہیں ہوئی اور نہ اس کے ازالہ کے واسطے آمادہ؟ کس قدر افسوس ہے کہ ہزاروں آدمی بے گناہ مارے جائیں۔لیکن سارے یورپ سے ان کی ہمدردی۔ان کی مدد۔ان کی تائید اور ان کی دل جوئی