خطبات محمود (جلد 9) — Page 319
319 سکتے جس پر پہنچ کر پھر گرنے کا خطرہ نہیں ہوتا۔وہ کون سی محبت والی چیزیں ہیں جن کو قربان کرنا چاہیے۔وہ وہی ہیں جو دین کے راستہ میں روک ہوں اور ان میں سب سے بڑھ کر مال ہے جو سب سے زیادہ روک ڈالتا ہے۔پس وہ مال جو دین کے کام نہیں آتا۔اس کی قربانی کی ضرورت ہے۔جس طرح باغبان ان درختوں کو کاٹ دیتے ہیں جو ایک ضروری پودے کے نشو نما میں روک ہوتے ہیں۔اسی طرح وہ مال بھی جو دین کے کام نہیں آتا اور خدا کی محبت کو دلوں میں پیدا نہیں ہونے دیتا۔خدا کی محبت کے پودے کے نشود نما کے لئے قربان کرنا چاہیے۔پس ایسا مال جو دین کے راستے اور خدا کی محبت پیدا کرنے اور بڑھانے میں روک ہے خرچ کرنے کے قابل ہے اور اس کی قربانی کی ضرورت ہے۔یہ مال اسی لئے روک ہوتا ہے کہ انسان کو پیارا ہوتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اسے خرچ کرے مگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسی کو خرچ کیا جائے۔کیونکہ اس کے بغیر "بر " نہیں پاسکتے۔پس اگر وہ مال جو تمہارے پاس ہے۔اس میں سے دین کے کام بھی آتا ہے اور خدا کی راہ میں بھی خرچ ہوتا ہے۔تو پھر تمھارے لئے حلال اور طیب ہے اور تمھارے لئے فائدہ بخش ہے۔لیکن اگر دین کے کام نہیں آتا اور خدا کی محبت کے راستہ میں روک ہو رہا ہے۔تو پھر تمھارے لئے فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔مما تحبون میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے۔کہ ایسے مال کی اس حد تک قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے جس حد تک وہ دین کے کام نہیں آتا اور اس کی راہ میں روک ہے۔پس دینی ضروریات پر چوکس رہنا فرض ہے کیونکہ اگر ان کی طرف سے غفلت کی جائے تو انسان کے دل میں خدا کی محبت نہیں پیدا ہو سکتی اور اگر کوئی شخص ان ضرورتوں کو دیکھ کر بھی ان کے پورا کرنے کے لئے کوشش نہیں کرتا۔تو وہ خدا کی محبت کے پودا کی حفاظت نہیں کرتا۔جو اس کے اندر ہے اور اسے اپنے ہاتھ سے ضائع کرتا ہے اور ایسا شخص خود بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔اور جس کے لئے وہ اس پودے کی حفاظت سے غافل ہو جاتا ہے اور مال کو دین کے کام میں خرچ کرنے سے رکتا ہے وہ مال اس کے لئے وبال جان ہو جاتا ہے۔ایسے شخص کا دل خدا تعالیٰ کی محبت سے خالی رہتا ہے نہ دین کے کاموں کے ساتھ اسے محبت رہتی ہے اور نہ ہی خدا کی راہ میں اپنی پیاری چیزوں کو قربان کرنے کی توفیق پاتا ہے۔پس ایسے شخص کا کوئی حق نہیں کہ وہ کہے کہ خدا کی محبت اس کے دل میں پیدا نہیں ہوتی۔خدا کی محبت پیدا کیونکر ہو جبکہ وہ ان کاموں کو کرتا ہی نہیں جو خدا کی محبت کو پیدا کرنے والے ہیں۔وہ اپنی پیاری چیزوں کو